تحفۂ گولڑویہ — Page 111
روحانی خزائن جلد ۱۷ ☆ ناپاک اور خدا سے پھرا ہوا قرار دے کر ضلالت کی راہ اختیار کی اس لئے ضروری ہوا کہ قرآن بحثیت حکم ہونے کے اس امر کا فیصلہ کرے۔ پس یہ آیات بطور فیصلہ ہیں کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا (11) صلَبُوهُ وَلكِنْ شُيَّة لَهُمْ - بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَیه یعنی یہ سرے سے بات غلط ہے کہ یہودیوں نے بذریعہ صلیب حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے اس لئے اس کا نتیجہ بھی غلط ہے کہ حضرت مسیح کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا اور نعوذ باللہ شیطان کی طرف گیا ہے بلکہ خدا نے اپنی طرف اُس کا رفع کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہود اور نصاری میں رفع جسمانی کا کوئی جھگڑا نہ تھا ا حکم اور حاکم میں یہ فرق ہے کہ حکم کا فیصلہ ناطق ہوتا ہے اس کے بعد کوئی اپیل نہیں مگر مجر دلفظ حاکم اس مضمون پر حاوی نہیں۔ منہ لعنتی ٹھہرا کر خدا تعالیٰ کا غضب اپنے پر نازل کیا اور مغضوب علیھم ٹھہرے حالانکہ اُن کو پتہ بھی لگ گیا تھا کہحضرت مسیح قبر میں نہیں ہے اور وہ پیشگوئی ان کی پوری ہوئی کہ یونس کی طرح میرا حال ہوگا یعنی زندہ ہی قبر میں جاؤں گا اور زندہ ہی نکلوں گا۔ اور نصاری کو حضرت مسیح سے محبت کرتے تھے مگر محض اپنی جہالت سے انہوں نے بھی لعنت کا داغ حضرت مسیح کے دل کی نسبت قبول کر لیا اور یہ نہ سمجھا کہ لعنت کا مفہوم دل کی ناپاکی سے تعلق رکھتا ہے اور نبی کا دل کسی حالت میں نا پاک اور خدا کا دشمن اور اس سے بیزار نہیں ہوسکتا۔ پس اس سورۃ میں بطور اشارت مسلمانوں کو یہ سکھلایا گیا ہے کہ یہود کی طرح آنے والے مسیح موعود کی تکذیب میں جلدی نہ کریں اور حیلہ بازی کے فتوے طیار نہ کریں اور اس کا نام لعنتی نہ رکھیں ورنہ وہی لعنت اُلٹ کر اُن پر پڑے گی ۔ ایسا ہی عیسائیوں کی طرح نادان دوست نہ بنیں اور نا جائز صفات اپنے پیشوا کی طرف منسوب نہ کریں پس بلا شبہ اس سورۃ میں مخفی طور پر میرا ذکر ہے اور ایک لطیف پیرایہ میں میری نسبت یہ ایک پیشگوئی ہے اور دعا کے رنگ میں مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ایسا زمانہ تم پر بھی آئے گا اور تم بھی حیلہ جوئی سے مسیح موعود کو لعنتی ٹھہراؤ گے کیونکہ یہ بھی حدیث ہے کہ اگر یہودی سوسمار کے سوراخ میں داخل ہوئے ہیں تو مسلمان بھی داخل ہوں گے۔ یہ عجیب خدا تعالی کی رحمت ہے کہ قرآن شریف کی پہلی سورۃ میں ہی جس کو پنج وقت مسلمان پڑھتے ہیں میرے آنے کی نسبت پیشگوئی کر دی۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ منہ ا النساء: ۱۵۸ النساء : ۱۵۹