تحفۂ گولڑویہ — Page 110
روحانی خزائن جلد ۱۷ 11+ پیرو ہو گئے مگر قدر قلیل، اس لئے اُن کا بھی یہی عقیدہ ہو گیا کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے تھے اور اس عقیدہ کی حمایت میں بعض فقرے انجیلوں میں بڑھائے گئے جن کی وجہ سے (10) انجیلوں کے بیانات میں باہم تناقض پیدا ہو گیا چنانچہ انجیلوں کے بعض فقروں سے تو صاف سمجھا جاتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور بعض میں لکھا ہے کہ مر گیا۔ اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے یہ فقرے پیچھے سے ملا دیئے گئے ہیں۔ اب قصہ کوتاہ یہ کہ یہودیوں نے صلیب کی وجہ سے اس بات پر اصرار شروع کیا کہ عیسی ابن مریم ایماندار اور صادق آدمی نہیں تھا اور نہ نبی تھا اور نہ ایمان داروں کی طرح اس کا خدا کی طرف رفع ہوا بلکہ شیطان کی طرف گیا اور اس پر یہ دلیل پیش کی کہ وہ صلیبی موت سے مرا ہے اس لئے ملعون ہے یعنی اس کا رفع نہیں ہوا۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آ گیا اور چھ سو برس اس قصہ کو گذر گیا اور چونکہ عیسائیوں میں علم نہیں تھا اور کفارہ کا ایک منصوبہ بنانے کا شوق بھی اُن کو محرک ہوا لہذا وہ بھی لعنت اور عدم رفع کے قائل ہو گئے اور خیال نہ کیا کہ لعنت کے مفہوم کو یہ بات لازمی ہے کہ انسان خدا کی درگاہ سے بالکل راندہ ہو جائے اور پلید دل ہوکر شیطان کی طرف چلا جائے اور محبت اور وفا کے تمام تعلق ٹوٹ جائیں اور دل پلید اور سیاہ اور خدا کا دشمن ہو جائے جیسا کہ شیطان کا دل ہے ۔ اسی لئے عین شیطان کا نام ہے۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ خدا کا ایسا مقبول بندہ جیسا کہ مسیح ہے اُس کا دل لعنت کی کیفیت کے نیچے آ سکے اور نعوذ باللہ شیطانی مناسبت سے شیطان کی طرف کھینچا جائے ۔ غرض یہ دونوں قومیں بھول گئیں ۔ یہودیوں نے ایک پاک نبی کو ملعون کہہ کر خدا کے غضب کی راہ اختیار کی اور عیسائیوں نے اپنے پاک نبی اور مرشد اور ہادی کے دل کو بوجہ لعنت کے مفہوم کے جو اس جگہ یہ نکتہ یادر رکھنے کے لائق ہے کہ سورۃ فاتحہ میں جو آیا ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الظَّالِينَ وہ اسی معرکہ کی طرف اشارہ ہے یعنی یہود نے خدا کے پاک اور مقدس نبی کو عمداً محض شرارت سے الفاتحة :