تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 109

روحانی خزائن جلد ۱۷ 1+9 جاتا ہے جیسا کہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ اس کی گواہ ہے۔ خدا کی طرف جانے کا نام رفع ہے اور شیطان کی طرف جانے کا نام لعنت ۔ اِن دونوں لفظوں میں تقابل اضداد ہے۔ نادان لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھے۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر رفع کے معنے مع جسم اٹھانا ہے تو اس کے مقابل کا لفظ کیا ہوا جیسا کہ رفع روحانی کے مقابل پر لعنت ہے۔ یہود نے خوب سمجھا تھا مگر بوجہ صلیب حضرت مسیح کے ملعون ہونے کے قائل ہو گئے اور نصاری نے بھی لعنت کو مان لیا مگر یہ تاویل کی کہ ہمارے گناہوں کے لئے مسیح پر لعنت پڑی اور معلوم ہوتا ہے کہ نصاری نے لعنت کے مفہوم پر توجہ نہیں کی کہ کیسا نا پاک مفہوم ہے جو رفع کے مقابل پر پڑا ہے جس سے انسان کی روح پلید ہو کر شیطان کی طرف جاتی ہے اور خدا کی طرف نہیں جا سکتی ۔ اسی غلطی سے انہوں نے اس بات کو قبول کر لیا کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے ہیں اور کفارہ کے پہلو کو اپنی طرف سے تراش کر یہ پہلو ان کی نظر سے چھپ گیا کہ یہ بات بالکل غیر ممکن ہے کہ نبی کا دل ملعون ہو کر خدا کو ر ڈ کر دے اور شیطان کو اختیار کرے مگر حواریوں کے وقت میں یہ غلطی نہیں ہوئی بلکہ اُن کے بعد عیسائیت کے بگڑنے کی یہ پہلی اینٹ تھی۔ اور چونکہ حواریوں کو تاکیداً یہ وصیت کی گئی تھی کہ میرے سفر کا حال ہرگز بیان مت کرو اس لئے وہ اصل حقیقت کو ظاہر نہ کر سکے اور ممکن ہے کہ تو ریہ کے طور پر انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہو کہ وہ تو آسمان پر چلے گئے تا یہودیوں کا خیال دوسری طرف پھیر دیں ۔ غرض انہی وجوہ سے حواریوں کے بعد نصاری صلیبی اعتقاد سے سخت غلطی میں مبتلا ہو گئے مگر ایک گروہ اُن میں سے اس بات کا مخالف بھی رہا اور قرائن سے انہوں نے معلوم کر لیا کہ میسیج کسی اور ملک میں چلا گیا صلیب پر نہیں مرا اور نہ آسمان پر گیا۔ بہر حال جبکہ یہ مسئلہ نصاری پر مشتبہ ہو گیا اور یہودیوں نے صلیبی موت کی عام شہرت دے دی تو عیسائیوں کو چونکہ اصل حقیقت سے بے خبر تھے وہ بھی اس اعتقاد میں یہودیوں کے اس گروہ کا ایک فرقہ اب تک نصاری میں پایا جاتا ہے جو حضرت مسیح کے آسمان پر جانے سے منکر ہیں۔ منہ الاعراف: ام