تحفۂ گولڑویہ — Page 108
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۰۸ کہ مسیح سیاح نبی ہے تمام سر بستہ راز کی گنجی تھی اور اسی ایک لفظ سے آسمان پر جانا اور اب تک زندہ ہونا سب باطل ہوتا تھا مگر اس پر غور نہیں کی گئی ۔ اور اس بات پر غور کرنے سے واضح ہوگا کہ جبکہ عیسی مسیح نے زمانہ نبوت میں یہودیوں کے ملک سے ہجرت کر کے ایک زمانہ دراز اپنی عمر کا سیاحت میں گذارا تو آسمان پر کس زمانہ میں اُٹھائے گئے اور پھر اتنی مدت کے بعد ضرورت کیا پیش آئی تھی ؟ عجیب بات ہے یہ لوگ کیسے بیچ میں پھنس گئے ایک طرف یہ اعتقاد ہے کہ صلیبی فتنہ کے وقت کوئی اور شخص سولی مل گیا اور حضرت مسیح بلا توقف دوسرے آسمان پر جا بیٹھے اور دوسری طرف یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ صلیبی حادثہ کے بعد وہ اسی دنیا میں سیاحت کرتے رہے اور بہت سا حصہ عمر کا سیاحت میں گزارا۔ عجب اندھیر ہے کوئی سوچتا نہیں کہ پیلاطوس کے ملک میں رہنے کا زمانہ تو بالا تفاق ساڑھے تین برس تھا۔ اور دور دراز ملکوں کے یہودیوں کو بھی دعوت کرنا مسیح کا ایک فرض تھا۔ پھر وہ اس فرض کو چھوڑ کر آسمان پر کیوں چلے گئے کیوں ہجرت کر کے بطور سیاحت اس فرض کو پورا نہ کیا ؟ عجیب تر امر یہ ہے کہ حدیثوں میں جو کنز العمال میں ہیں اسی بات کی تصریح موجود ہے کہ یہ سیر و سیاحت اکثر ملکوں کا حضرت مسیح نے صلیبی فتنہ کے بعد ہی کیا ہے اور یہی معقول بھی ہے کیونکہ ہجرت انبیاء علیہم السلام میں سنت الہی یہی ہے کہ وہ جب تک نکالے نہ جائیں ہر گز نہیں نکلتے اور بالا تفاق مانا گیا ہے کہ نکالنے یا قتل کرنے کا وقت صرف فتنہ صلیب کا وقت تھا۔ غرض یہودیوں نے بوجه صلیبی موت کے جو اُن کے خیال میں تھی حضرت مسیح کی نسبت یہ نتیجہ نکالا کہ وہ نعوذ باللہ ملعون ہو کر شیطان کی طرف گئے نہ خدا کی طرف۔ اور اُن کا رفع خدا کی طرف نہیں ہوا بلکہ شیطان کی طرف ہبوط ہوا کیونکہ شریعت نے دو طرفوں کو مانا ہے۔ ایک خدا کی طرف اور وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائے عرش ہے اور دوسری شیطان کی اور وہ بہت نیچی ہے اور اس کا انتہا زمین کا پاتال ہے۔ غرض یہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ مومن مر کر خدا کی طرف جاتا ہے۔ اور اُس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں جیسا کہ آیت ارْجِعِي إلى رب نے اس کی شاہد ہے اور کا فرنیچے کی طرف جو شیطان کی طرف ہے الفجر: ٢٩