تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 102

۱۰۲ روحانی خزائن جلد۱۷ زمین کی طرف جھک گیا۔ ظاہر ہے کہ مسیح کیلئے جو لفظ رفع میں استعمال کئے گئے وہی لفظ بلعم کی نسبت استعمال کئے گئے۔ مگر کیا خدا کا ارادہ تھا کہ بلغم کو مع جسم آسمان پر پہنچا دے بلکہ صرف اُس کی رُوح کا رفع مراد تھا۔ اے حضرات !خدا سے خوف کرو۔ رفع جسمانی تو یہودیوں کے الزام میں معرض بحث میں ہی نہیں تمام جھگڑا تو رفع روحانی کے متعلق ہے کیونکہ یہود نے حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچ کر بموجب نص توریت کے یہ خیال کر لیا تھا کہ اب اس کا رفع روحانی نہیں ہوگا اور وہ نعوذ باللہ خدا کی طرف نہیں جائے گا بلکہ ملعون ہو کر شیطان کی طرف جائیگا یہ ایک اصطلاحی لفظ ہے کہ جو شخص خدا کی طرف بلایا جاتا ہے اس کو مرفوع کہتے ہیں اور جو شیطان کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے اس کو ملعون کہتے ہیں سو یہی وہ یہودیوں کی غلطی تھی جس کا قرآن شریف نے بحیثیت حکم ہونے کے فیصلہ کیا اور فرمایا کہ مسیح صلیب پر قتل نہیں کیا گیا اور فعل صلیب پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا اس لئے مسیح رفع روحانی سے محروم نہیں ہو سکتا۔ علاوہ اس کے صاف ظاہر ہے کہ علم طبعی کی رو سے جس کے مسائل مشہودہ محسوسہ ہیں ہمیشہ جسم معرض تحلیل و تبدیل میں ہے ہر آن اور ہر سیکنڈ میں ذرات جسم بدلتے رہتے ہیں جو اس وقت ہیں وہ ایک منٹ کے بعد نہیں پھر کیونکر ممکن ہے کہ جس جسم کے رفع کا آیت رَافِعُكَ إلى میں وعدہ ہوا تھاوہی جسم زمانہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی تک موجود تھا ۔ پس لازم آیا کہ جو وعدہ رَافِعُكَ ائی میں ایک خاص جسم کی نسبت دیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا کیونکہ ایفاء وعدہ کے وقت تو اور جسم تھا اور پہلا جسم تحلیل پاچکا تھا۔ اور خود یہ خیال غلط ہے کہ جب کسی کو مخاطب کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ یا ابراہیم اور یاعیسی اور یا موسیٰ اور یا محمد (علیہم السلام ) تو اس کے ساتھ معیت جسم شرط ہوتی ہے اور کچھ حصہ خطاب کا جسم کے ساتھ بھی متعلق ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اگر مثلاً ایک نبی کا ہاتھ کٹ جائے یا پیر کٹ جائے تو پھر اس لائق نہ رہے کہ یا عیسی یا یا موسیٰ اس کو کہا جائے کیونکہ ایک حصہ جسم کا جس کو خطاب کیا گیا ہے اُس کے ساتھ نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے مردہ انبیاء کا قرآن شریف میں ذکر اسی طرح کیا ہے جیسے اس کا حالت میں ذکر کیا تھا جبکہ وہ جسم کے ساتھ زندہ تھے پس اگر ایسے خطاب کے لئے جسم کی شرط ہے تو مثلاً یہ کہنا کیونکر جائز ہے کہ اِنَّ ابْرُ هِیمَ لَا وَاهُ حَلِیہ کے غرض حضرت مسیح علیہ السلام کی موت التوبة :١١٤