تحفۂ گولڑویہ — Page 101
1+1 روحانی خزائن جلد ۱۷ کی طرف سے آیا تھا۔ نام اس کا یوز ہے۔ پھر وہ کتبہ سکھوں کے عہد میں محض تعصب اور عناد سے مٹایا گیا اب وہ الفاظ اچھی طرح پڑھے نہیں جاتے ۔ اور وہ قبر بنی اسرائیل کی قبروں کی طرح ہے اور بیت المقدس کی طرف منہ ہے اور قریباً سرینگر کے پانسو آدمی نے اس محضر نامہ پر بدین مضمون دستخط اور مہریں لگائیں کہ کشمیر کی پرانی تاریخ سے ثابت ہے کہ صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا اور شہزادہ کہلاتا تھا کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر میں آ گیا تھا اور بہت بڑھا ہو کر فوت ہوا اور اُس کو عیسی صاحب بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی بھی اور یوز آسف بھی ۔ اب بتلاؤ کہ اس قدر تحقیقات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے میں کسر کیا رہ گئی اور اگر باوجود اس بات کے کہ اتنی شہادتیں قرآن اور حدیث اور اجماع اور تاریخ اور نسخہ مرہم عیسی اور وجود قبرسرینگر میں اور معراج میں بزمرہ اموات دیکھے جانا اور عمر ایک سو میں سال مقرر ہونا اور حدیث سے ثابت ہونا کہ واقعہ صلیب کے بعد وہ کسی اور ملک کی طرف چلے گئے تھے اور اسی سیاحت کی وجہ سے اُن کا نام نبی سیاح مشہور تھا۔ یہ تمام شہادتیں اگر ان کے مرنے کو ثابت نہیں کرتیں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نبی بھی فوت نہیں ہوا ۔ سب مجسم عصری آسمان پر جا بیٹھے ہیں کیونکہ اس قدر شہادتیں اُن کی موت پر ہمارے پاس موجود نہیں بلکہ حضرت موسیٰ کی موت خود مشتبہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ اُن کی زندگی پر یہ آیت قرآنی گواہ ہے یعنی یہ کہ 10 ہے فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَابِ ۔ اور ایک حدیث بھی گواہ ہے کہ موسیٰ ہر سال دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کے حج کرنے کو آتا ہے۔ اے بزرگو! اب اس ماتم سے کچھ فائدہ نہیں ۔ اب تو حضرت مسیح پر انا للہ پڑھو وہ تو بے شک فوت ہو گئے وہ حدیث صحیح نکلی کہ مسیح کی عمر ایک سو بیس برس ہوگی نہ ہزاروں برس اب خدا سے ڈرنے کا وقت ہے کج بحثی کا وقت نہیں کیونکہ ثبوت انتہا تک پہنچ گیا ہے اور یہ خیال کہ قرآن شریف میں اُن کی نسبت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ " آیا ہے اور بل دلالت کرتا ہے کہ وہ مع جسم آسمان پر اُٹھائے گئے۔ یہ خیال نہایت ذلیل خیال اور بچوں کا سا خیال ہے ۔ اس قسم کا رفع تو بلم کی نسبت بھی مذکور ہے یعنی لکھا ہے کہ ہم نے ارادہ کیا تھا کہ بلغم کا رفع کریں مگر وہ السجدة: ۲۴ النساء: ۱۵۹