تحفۂ گولڑویہ — Page 98
روحانی خزائن جلد۱۷ ۹۸ اب تک آسمان سے نہیں اترا تو یہ کیونکر مسیح بن کر آ گیا اور ممکن نہیں جو الہامی کتابیں جھوٹ ہوں۔ اب بتلاؤ کہ آپ لوگ حضرت عیسی سے تو اتنی محبت رکھتے ہیں کہ آپ لوگوں کی نظر میں نعوذ باللہ سید الاصفیاء واصفی الاصفیاء حضرت خاتم الانبیاء تو مردہ رسول مگر مسیح زندہ رسول اور با وصف اس قدر اطراء حضرت مسیح کے یہودیوں کا پہلو آپ لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ بھلا جتلاؤ کہ آپ لوگوں کے بیان میں جو آخری مسیح موعود کے بارے میں ہے اور یہودیوں کے بیان میں جو ان کے اس زمانہ کے مسیح موعود کے بارے میں ہے فرق کیا ہے۔ کیا یہ دونوں عقیدے ایک ہی صورت کے نہیں ہیں؟ اور کیا میرا جواب اور حضرت عیسی کا جواب ایک ہی طرز کا نہیں ہے؟ پھر اگر تقویٰ ہے تو اس قدر ہنگامہ محشر کیوں برپا کر رکھا ہے اور یہودیوں کی وکالت کیوں اختیار کر لی؟ کیا یہ بھی ضروری تھا کہ جب میں نے اپنے آپ کو مسیح کے رنگ میں ظاہر کیا تو اس طرف سے آپ لوگوں نے جواب دینے کے وقت فی الفور یہودیوں کا رنگ اختیار کر لیا۔ بھلا اگر بقول حضرت مسیح ایلیا کے دوبارہ نزول کے یہ معنے ہوئے کہ ایک اور شخص بروزی طور پر اُس کی خو اور طبیعت پر آئے گا تو پھر آپ کا کیا حق ہے کہ اس نبوی فیصلہ کو نظر انداز کر کے آپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اب خود حضرت عیسی علیہ السلام ہی آجائے گا۔ گویا خدا تعالیٰ کو ایلیا نبی کے دوبارہ بھیجنے میں تو کوئی کمزوری پیش آگئی تھی مگر مسیح کے بھیجنے میں پھر خدائی قوت اس میں عود کر آئی۔ کیا اس کی کوئی نظیر بھی موجود ہے کہ بعض آدمی آسمان پر بجسمه العنصری جا کر پھر دنیا میں آتے رہے ہیں کیونکہ حقیقتیں نظیروں کے ساتھ ہی کھلتی ہیں۔ چنانچہ جب لوگوں کو حضرت عیسی کے بے پدر ہونے پر اشتباہ ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے دلوں کو مطمئن کرنے کے لئے حضرت آدم کی نظیر پیش کر دی مگر حضرت عیسی کے دوبارہ آنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کی نہ حدیث میں نہ قرآن میں حالانکہ نظیر کا پیش کرنا دو وجہ سے ضروری بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ بھی تو عقیدہ اہل اسلام کا ہے کہ الیاس اور خضر زمین پر زندہ موجود ہیں