تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 99

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۹۹ تھا ایک اس غرض سے کہ تا حضرت عیسی کا زندہ آسمان کی طرف اُٹھائے جانا اُن کی ایک خصوصیت ظہر کر منجر الی الشرک نہ ہو جائے اور دوسرے اس لئے کہتا اس بارے میں سنت اللہ معلوم ہو کر ثبوت اس امر کا پایہ کمال کو پہنچ جائے ۔ سو جہاں تک ہمیں علم ہے خدا اور رسول نے اس کی نظیر پیش نہیں کی۔ اگر گولڑوی صاحب کو کشف کے ذریعہ سے اس کی نظیر معلوم ہو گئی ہے تو پھر اس کو پیش کرنا چاہئے۔ غرض حضرت مسیح علیہ السلام کی موت قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ اور ا کا بر ائمہ اربعہ اور اہل کشوف کے کشوف سے ثابت ہے اور اس کے سوا اور بھی دلائل ہیں جیسا کہ مرہم عیسی جو ہزار طبیب سے زیادہ اس کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آئے ہیں جن کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مرہم جو زخموں اور خون جاری کے لئے نہایت مفید ہے حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے تیار کی گئی تھی اور واقعات سے ثابت ہے کہ نبوت کے زمانہ میں صرف ایک ہی صلیب کا حادثہ اُن کو پیش آیا تھا کسی اور سقطہ یا ضربہ کا واقعہ نہیں ہوا پس بلا شبہ وہ مرہم انہی زخموں کے لئے تھی ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب سے زندہ بچ گئے اور مرہم کے استعمال سے شفا پائی اور پھر اس جگہ وہ حدیث جو کنز العمال میں لکھی ہے حقیقت کو اور بھی ظاہر کرتی ہے یعنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کو اس ابتلا کے زمانہ میں جو صلیب کا ابتلا تھا حکم ہوا کہ کسی اور ملک بقیه حاشیه اور اور لیس آسمان پر مگر ان کو معلوم نہیں کہ علماء متفقین ان کو زندہ نہیں سمجھتے کیونکہ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ آج سے ایک نو برس کے گذرنے پر زمین پر کوئی زندہ نہیں رہے گا پس جو شخص خضر اور الیاس کو زندہ جانتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کا مکذب ہے اور ادریس کو اگر آسمان پر زندہ مانیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ وہ آسمان پر ہی مریں گے کیونکہ اُن کا دوبارہ زمین پر آنا نصوص سے ثابت نہیں اور آسمان پر مرنا آیت فِيهَا تَمُوتُونَ کے منافی ہے۔ منہ الاعراف : ٢٦