تحفۂ گولڑویہ — Page 93
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۹۳ اور اگر کوئی نظیر تمہارے پاس نہیں تو پھر کیوں ایسے امر کی نسبت مجھ سے تقاضا کرتے ہو جو رسولوں کے ساتھ سنت اللہ نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو یہ سکھلایا ہوا ہوتا کہ حضرت مسیح زندہ بجسمه العنصری آسمان پر چلے گئے ہیں تو ضرور وہ اس وقت (2) اعتراض کرتے اور کہتے کہ یا حضرت آپ کیوں آسمان پر کسی رسول کا بجسم عنصری جانا سنت اللہ کے برخلاف بیان فرماتے ہیں حالانکہ آپ ہی نے تو ہمیں بتلایا تھا کہ حضرت مسیح آسمان پر زندہ بجسمہ العصر کی چلے گئے ہیں ایسا ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پر کسی نے اعتراض نہ کیا کہ قرآن میں کیوں تحریف کرتے ہو تمام گذشتہ انبیاء کہاں فوت ہوئے ہیں اور اگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اُس وقت عذر کرتے کہ نہیں صاحب میرا منشاء تمام انبیاء کا فوت ہونا تو نہیں ہے میں تو بدل اس پر ایمان رکھتا ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ بجسمه العنصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور کسی وقت اُتریں گے تو صحابہ جواب دیتے کہ اگر آپ کا یہی اعتقاد ہے تو پھر آپ نے اس آیت کو پڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خیالات کا رڈ کیا کیا ؟ کیا آپ کے کان بہرے ہیں کیا آپ سنتے نہیں کہ عمر بلند آواز سے کیا کہہ رہا ہے؟ حضرت وہ تو یہ کہہ رہا ہے کہ نبی صلے اللہ علیہ وسلم مرے نہیں زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے اور منافقوں کو قتل کریں گے اور وہ آسمان کی طرف ایسا ہی زندہ اٹھائے گئے ہیں جیسے کہ عیسی بن مریم اٹھایا گیا تھا آپ نے آیت تو پڑھ لی مگر اس آیت میں اس خیال کا رڈ کہاں ہے لیکن صحابہ جو عقلمند اور زیرک اور پاک نبی کے ہاتھ سے صاف کئے گئے تھے اور عربی تو اُن کی مادری زبان تھی اور کوئی تعصب درمیان نہ تھا۔ اس لئے انہوں نے آیت موصوفہ بالا کے سنتے ہی سمجھ لیا کہ خلت کے معنے موت ہیں جیسا کہ خود خدا تعالیٰ نے فقر و أَفَأَ بِنُ مات او قتل میں تشریح کر دی ہے اس لئے انہوں نے بلا توقف اپنے خیالات سے رجوع کر لیا اور ذوق میں آکر اور آنحضرت کے فراق کے درد سے بھر کر بعض نے اس مضمون کو ادا کرنے کے لئے شعر بھی بنائے جیسا کہ حسان بن ثابت نے بطور مرثیہ یہ دو بیت کہے آل عمران: ۱۴۵