تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 92

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۹۲ اور صحابہ نے ترک مقابلہ اور تسلیم کا طریق اختیار کر کے ثابت کر دیا کہ یہ آیت موت مسیح اور تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام پر قطعی دلیل ہے اور اس پر تمام اصحاب رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا ایک فرد بھی باہر نہ رہا جیسا کہ میں نے اس بات کو مفصل طور پر رسالہ تحفہ غزنویہ میں لکھ دیا ہے پھر اس کے بعد تیرہ سو برس تک کبھی کسی مجتہد اور مقبول امام پیشوائے انام نے یہ دعوی نہیں کیا که حضرت مسیح زندہ ہیں بلکہ امام مالک نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں اور امام ابن حزم نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں۔ اور تمام کامل مکمل ملہمین میں سے کبھی کسی نے یہ الہام نہ سنایا کہ خدا کا یہ کلام میرے پر نازل ہوا ہے کہ عیسی بن مریم بر خلاف تمام نبیوں کے زندہ آسمان پر موجود ہے۔ الغرض جبکہ میں نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ اور اقوال ائمہ اربعہ اور وحی اولیاء امت محمدیہ اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم میں بجز موت مسیح کے اور کچھ نہ پایا تو بنظر تکمیل لوازم تقویٰ انبیاء سابقین علیہم السلام کے قصص کی طرف دیکھا کہ کیا قرون گذشتہ میں اس کی کوئی نظیر بھی موجود ہے کہ کوئی آسمان پر چلا گیا ہو اور دوبارہ واپس آیا ہو تو معلوم ہوا کہ حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی نظیر نہیں جیسا کہ قرآن شریف بھی آیت قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَر از سُولاً میں اس کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ یعنی جب کفار بد بخت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اقتراحی معجزہ مانگا کہ ہم تب تجھے قبول کریں گے کہ جب ہمارے دیکھتے دیکھتے آسمان پر چڑھ جائے اور دیکھتے دیکھتے اتر آوے تو آپ کو حکم آیا کہ قُل سُبْحَانَ رَبّى هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرً ارسُولاً یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس بات سے پاک ہے کہ اپنی سنت قدیمہ اور دائی قانونِ قدرت کے برخلاف کوئی بات کرے میں تو صرف رسول اور انسان ہوں اور جس قدر رسول دنیا میں آئے ہیں اُن میں سے کسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہوئی کہ اس کو جسم عنصری آسمان پر لے گیا ہو اور پھر آسمان سے اتارا ہو اور اگر عادت ہے تو تم خود ہی اس کا ثبوت دو کہ فلاں نبی جسم عصری آسمان پر اٹھایا گیا تھا اور پھر اتارا گیا۔ تب میں بھی آسمان پر جاؤں گا اور تمہارے روبرو اتروں گا۔ بنی اسرائیل: ۹۴