تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 91

روحانی خزائن جلد۱۷ ۹۱ اب دیکھو اگر کوئی آسمان پر جا کر بھی کچھ حصہ زندگی کا بسر کر سکتا ہے تو اس سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔ اسی کی مؤید ہے یہی دوسری آیت که وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ یعنی تمہارا قرار گاہ زمین ہی رہے گی ۔ اب اس سے زیادہ خدا تعالی کیا بیان فرما تا ؟ پھر ایک اور آیت حضرت عیسی کی موت پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ گانا يَأْكُلْنِ الطَّعَام کے یعنی حضرت مسیح اور حضرت مریم جب زندہ تھے تو روٹی کھایا کرتے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ترک طعام کی دو وجہیں ہوتیں تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر علیحدہ علیحدہ کر دیتا کہ مریم تو بوجہ فوت ہونے کے طعام سے مہجور ہوگئی اور عیسی کسی اور وجہ سے کھانا چھوڑ بیٹھا بلکہ دونوں کو ایک ہی آیت میں شامل کرنا اتحاد امر واقعہ پر دلیل ہے تا معلوم ہو کہ دونوں مر گئے ۔ پھر ایک اور آیت حضرت عیسی کی موت پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ أَوْصُنِي بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا یعنی خدا نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں نماز پڑھتا رہوں اور زکوۃ دوں ۔ اب بتلاؤ کہ آسمان پر وہ زکوۃ کس کو دیتے ہیں؟ اور پھر ایک اور آیت ہے جو بڑی صراحت سے حضرت عیسی کی موت پر دلالت کر رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ أَمْوَاتُ غَيْرُ احیاء سے یعنی جس قدر باطل معبودوں کی لوگ زمانہ حال میں پرستش کر رہے ہیں وہ سب مر چکے ہیں اُن میں کوئی زندہ باقی نہیں ۔ اب بتلاؤ کیا اب بھی کچھ خدا کا خوف پیدا ہوا یا نہیں؟ یا نعوذ باللہ خدا نے غلطی کی جو سب باطل معبودوں کو مردہ قرار دیا اور پھر ان سب کے بعد وہ عظیم الشان آیت ہے جس پر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوا اور ایک لاکھ سے زیادہ صحابی نے اس بات کو مان لیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور کل گذشته نبی فوت ہو چکے ہیں اور وہ یہ آیت ہے۔ وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ۔ اس جگہ خلت کے معنے خدا تعالیٰ نے آپ فرما دیے کہ موت یا قتل ۔ پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے محل استدلال میں جمیع انبیاء گذشتہ کی موت پر اس آیت کو پیش کر کے البقرة: ٣٧ المائدة: ۷۶ مریم : ۳۲ النحل: ٢٢ ۵ آل عمران: ۱۴۵