تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 90

روحانی خزائن جلد ۱۷ کریں گے تو ہم عوام میں فتح کا نقارہ بجائیں گے۔ اور اگر مباحثہ کریں گے تو کہہ دیں گے کہ اس شخص نے خدا تعالیٰ کے ساتھ عہد کر کے پھر توڑا۔ ہم پیر صاحب سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہ کیا آپ اپنے نفس کے لئے یہ جائز رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ عہد کر کے پھر توڑ دیں؟ پھر ہم سے آپ نے کیونکر توقع رکھی؟ اور اب منقولی مباحثات کی حاجت ہی کیا تھی؟ خدا تعالیٰ کی کلام سے حضرت مسیح کا فوت ہونا ثابت ہو گیا۔ ایماندار کے لئے صرف ایک آیت فَلَمَّا ہونا تَوَفَّيْتَنِی اس بات پر دلیل کافی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے تیس مقامات میں لفظ توفی کو قبض روح کے موقعہ پر استعمال کیا۔ اوّل سے آخر تک قرآن شریف میں کسی جگہ لفظ توفی کا ایسا نہیں جس کے بحجر قبض روح اور مارنے کے اور معنے ہوں۔ اور پھر ثبوت پر ثبوت یہ کہ صحیح بخاری میں ابن عباس سے متوفیک کے معنے ممیتک لکھے ہیں۔ ایسا ہی تفسیر فوز الکبیر میں بھی یہی معنے مندرج ہیں اور کتاب عینی تفسیر بخاری میں اس قول کا اسناد بیان کیا ہے۔ اب اس نص قطعی سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ضرور مر چکے ہیں اور احادیث میں جہاں کہیں تو فی کا لفظ کسی صیغہ میں آیا ہے اس کے معنے مارنا ہی آیا ہے جیسا کہ محدثین پر پوشیدہ نہیں ۔ اور علم لغت میں یہ مسلم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول یہ ہے وہاں بجز مارنے کے اور کوئی معنے توفی کے نہیں آتے ۔ تمام دواوین عرب اس پر گواہ ہیں ۔ اب اس سے زیادہ ترک انصاف کیا ہوگا کہ قرآن بلند آواز سے فرما رہا ہے کوئی نہیں سنتا ۔ حدیث گواہی دے رہی ہے کوئی پروا نہیں کرتا ۔ علم لغت عرب شہادت ادا کر رہا ہے کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ دواوین عرب اس لفظ کے محاورات بتلا رہے ہیں کسی کے کان کھڑے نہیں ہوتے ۔ پھر قرآن شریف میں صرف یہی آیت تو نہیں کہ حضرت مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ تمہیں آیتیں جن کا ذکر ازالہ اوہام میں موجود ہے یہی گواہی دیتی ہیں جیسا کہ آیت وَ فِيهَا تَحْيَوْنَ " یعنی زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے۔ المائدة : ١١٨ الاعراف: ۲۶