تریاق القلوب — Page 503
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۰۳ تریاق القلوب نسبت کوئی انسان کوئی بدظنی نہ کر سکے اور ایک موٹی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکے کہ یہ نشان انسانی ہاتھوں اور انسانی منصوبوں سے پاک ہے اور خاص خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے ہاتھ سے نکلا ہے ۔ تب ایسا نشان ظاہر ہونے سے ہر ایک سلیم طبیعت بغیر کسی شک وشبہ کے اُس انسان (۲) کو قبول کر لیتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی یہ بات پڑ جاتی ہے کہ یه شخص در حقیقت سچا ہے۔ تب لوگ اس الہام کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ اس شخص کو صادق کا خطاب دیتے ہیں کیونکہ لوگ اس کو صادق صادق کہنا شروع کر دیتے ہیں اور لوگوں کا یہ خطاب ایسا ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ نے آسمان سے خطاب دیا کیونکہ خدا تعالیٰ آپ ان کے دلوں میں یہ مضمون نازل کرتا ہے کہ لوگ اس کو صادق کہیں ۔ اب جہاں تک میں نے غور اور فکر کی ہے میں اپنے اجتہاد سے نہ کسی الہامی تشریح سے اُس الہام کے جس کو میں نے ابھی ذکر کیا ہے یہی معنے کرتا ہوں ، کیونکہ ان معنوں کے لئے اس الہام کا آخری فقرہ ایک بڑا قرینہ ہے کیونکہ آخری فقرہ یہ ہے کہ ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہوگا۔ لہذا میں اپنے اجتہاد سے اس کے یہ معنے سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس خطاب کی مثال یہ ہے کہ جیسا کہ مصر کے بادشاہ فرعون نے حضرت یوسف علیہ السلام کو صدیق کا خطاب دیا کیونکہ بادشاہ نے جب دیکھا کہ اس شخص نے صدق اور پاک باطنی اور پر ہیز گاری کے محفوظ رکھنے کے لئے باراں برس کا جیل خانہ اپنے لئے منظور کیا مگر بدکاری کی درخواست کو نہ مانا ۔ بلکہ ایک لحظہ کیلئے بھی دل پلید نہ ہوا۔ تب بادشاہ نے اس راستباز کو صدیق کا ۱۲ معلوم ہوتا خطاب دیا جیسا کہ قرآن شریف سورہ یوسف میں ہے۔ يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ ہے کہ انسانی خطابوں میں سے پہلا خطاب وہی تھا جو حضرت یوسف کو ملا۔ منہ جس کے ساتھ خدا تعالی کا معاملہ وحی اور الہام کے ساتھ ہو وہ خوب جانتا ہے کہ مسلمین کو کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنے الہام کے معنے کرنے پڑتے ہیں۔ اس طرح کے الہام بہت ہیں جو مجھے کئی دفعہ ہوئے ہیں اور بعض وقت ایسا الہام ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ اس کے کیا معنے ہیں اور ایک مدت کے بعد يوسف : ۴۷