تریاق القلوب — Page 504
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۰۴ تریاق القلوب اس جھگڑے کے فیصلہ کرنے کے لئے جو کسی حد تک پرانا ہو گیا ہے اور حد سے زیادہ تکذیب اور تکفیر ہو چکی ہے کوئی ایسا برکت اور رحمت اور فضل اور صلح کاری کا نشان ظاہر کرے گا کہ وہ انسانی ہاتھوں سے برتر اور پاک تر ہوگا ۔ تب ایسی کھلی کھلی سچائی کو دیکھ کر لوگوں کے خیالات میں ایک تبدیلی واقع ہوگی اور نیک طینت آدمیوں کے کینے یکدفعہ رفع ہو جائیں گے مگر جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ میرا ہی خیال ہے ابھی کوئی الہامی تشریح نہیں ہے۔ میرے ساتھ خدا تعالی کی عادت یہ ہے کہ کبھی کسی پیشگوئی میں مجھے اپنی طرف سے کوئی تشریح عنایت کرتا ہے اور کبھی مجھے میرے فہم پر ہی چھوڑ دیتا ہے مگر یہ تشریح جو ابھی میں نے کی ہے اس کی ایک خواب بھی مؤید ہے جو ابھی ۲۱ / اکتو بر ۱۸۹۹ء کو میں نے دیکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے خواب میں محبی اخویم مفتی محمد صادق کو دیکھا ہے اور قبل اس کے جو میں اس خواب کی تفصیل بیان کروں اس قدر لکھنا فائدہ سے خالی نہیں ہوگا کہ مفتی محمد صادق میری اس کے معنے کھلتے ہیں۔ مثلاً ۱۹ ستمبر ۱۸۹۹ء کوخدا تعالیٰ نے مخاطب کر کے اپنا کلام مجھ پر نازل کیا۔ انا اخرجنالک زروعا یا ابراهیم یعنی اے ابراہیم ہم تیرے لئے ربیع کی کھیتیاں اُگائیں گے۔ زروع زرع کی جمع ہے اور زرع عربی زبان میں ربیع کی کھیتی یعنی کنک وجو وغیرہ کو کہتے ہیں مگر آثار ایسے نہیں ہیں کہ یہ الہام اپنے ظاہر معنوں کے رو سے پورا ہو کیونکہ ربیع کی تخم ریزی کے ایام گو یا گذر گئے لہذا مجھے صرف اجتہاد سے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ تجھے کیا غم ہے تیری کھیتیاں تو بہت نکلیں گی یعنی ہم تیری تمام حاجات کے متکفل ہیں ۔ ایسا ہی ایک اور دوسرا الہام متشابہات میں سے ہے جو ۴ را کتوبر ۱۸۹۹ء کو مجھے ہوا ۔ اور وہ یہ ہے کہ قیصر ہند کی طرف سے شکریہ۔ اب یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہر ایک قابل پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مردہ سمجھتا ہوں۔ میرا شکر یہ کیسا۔سو ایسے الہام متشابہات میں سے ہوتے ہیں۔ جب تک خود خدا ان کی حقیقت ظاہر نہ کرے۔ منہ