تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 462 of 769

تریاق القلوب — Page 462

छाल روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۶۲ تریاق القلوب تدبیریں تو ہر ایک قسم کی کیں مگر کچھ بھی پیش نہ گئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے اُس ۵۱۰ وعدہ کو پورا کیا جو براہین احمدیہ کے صفحہ پانسو دس میں درج تھا یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ تجھے دشمنوں کی ہر ایک بداندیشی سے بچائے گا اگر چہ لوگ تجھے ہلاک کرنا چاہیں سو یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ جو منہاج نبوت پر واقع ہوئی کیونکہ مجھ سے ایک یہ بھی احسان ہے کہ انہوں نے اس غلطی سے بچنے کے لئے جو آئیندہ زمانہ کے لئے پیش آنے والی تھی اپنی خلافت حقہ کے زمانہ میں سچائی اور حق کا دروازہ کھول دیا اور ضلالت کے سیلاب پر ایک ایسا مضبوط بند لگا دیا کہ اگر اس زمانہ کے مولویوں کے ساتھ تمام جنیات بھی شامل ہو جائیں تب بھی وہ اس بند کو توڑ نہیں سکتے۔ سو ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت ابو بکر کی جان پر ہزاروں رحمتیں نازل کرے جنہوں نے خدا تعالیٰ سے پاک الہام پا کر اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ مسیح فوت ہو گیا ہے۔ یہ تین دلائل کافی ہیں پھر ایک اور دلیل ان دلائل ثلاثہ کو مدد دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ امر سنت اللہ میں داخل ہوتا کہ کوئی شخص اتنی مدت تک آسمان پر بیٹھا ر ہے اور پھر زمین پر نازل ہو تو اس کی کوئی اور نظیر بھی ہوتی کیونکہ خدا تعالی کے سارے کام نظیر رکھتے ہیں تا انسانوں کے لئے تکلیف مالا يُطاق نہ ہو مثلاً آدم کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا اور اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں کیڑے مکوڑے مٹی سے پیدا ہور ہے ہیں مگر قرآن شریف نے اس رفع اور نزول کی کوئی نظیر بیان نہیں فرمائی۔ ہاں پہلی کتابوں میں اسی کا ہم شکل ایک مقدمہ ہے یعنی ایلیا کا دوبارہ دنیا میں آنا لیکن اس آمدثانی کے معنے خود حضرت مسیح نے بیان فرما دیے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی اور شخص حضرت ایلیا کی خوا اور طبیعت پر دنیا میں آئے گا یہ جہالت ہے کہ ایسا سمجھا جائے کہ یہ قصہ جھوٹا ہے کیونکہ اس قصے پر دو قو میں جو با ہم سخت دشمنی رکھتی ہیں اعتقاد رکھتی ہیں اور اب تک ملا کی نبی کی کتاب میں یہ پایا جاتا ہے پھر باطل کیونکر ہو سکتا ہے ؟ جس بات کو کروڑ بہا انسان اور پھر دو مخالف گروہ مانتے چلے آئے ہیں اور اُن کی کتابوں میں موجود ہے وہ امر کیونکر باطل ٹھہر سکتا ہے ؟ اس طرح تو تمام تواریخ سے امان اُٹھ جاتا ہے۔ ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ مسیح تو کہتا ہے کہ