تریاق القلوب — Page 463
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۶۳ تریاق القلوب پہلے جس قدر رسول اور نبی گزرے ہیں سب کو یہ بلا پیش آئی تھی کہ شریر لوگ ۱۳۸ کتوں کی طرح اُن کے گرد ہو گئے تھے ۔ اور صرف ہنسی اور ٹھٹھے پر ہی کفایت نہیں کی تھی بلکہ چاہا تھا کہ اُن کو پھاڑ ڈالیں اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیں ۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے اُن کو بچا لیا ۔ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا کہ ان مولویوں نے یکی نبی ہی ایلیا ہے اور بی ایلیا ہونے سے منکر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں قولوں میں کچھ بھی تناقض نہیں کیونکہ مسیح تو یحییٰ کو باعتبار اُس کی خواور طبیعت کے ایلیا ٹھہراتا ہے نہ حقیقی طور پر اور حضرت میکی اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ وہ حقیقی طور پر ایلیا ہوں ۔ اور اہل تاریخ کے عقیدے کے موافق ایلیا کی رُوح ان میں آگئی ہو ۔ پس حضرت مسیح ایک استعارہ استعمال کر کے بیٹی کو ایلیا قرار دیتے ہیں اور حضرت بیٹی حقیقت پر نظر کر کے ایلیا ہونے سے انکار کرتے ہیں فلما اختلف الجهات لم يبق التناقض فتدبر ۔ اور اگر اس طرح پر تناقض ہوسکتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے کلام میں بھی نعوذ باللہ تناقض ماننا چاہیے کیونکہ ایک طرف تو تمام قرآن اس مضمون سے بھرا ہے کہ جو شخص ایمان لاوے اور تقوی اختیار کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور خواہ بینا ہو یا اندھا وہ سب نجات پائیں گے اور دوسری طرف یہ بھی آیت ہے صُمٌّ بُكْمٌ عُيٌّ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ے یعنی اند ھے اور گونگے اور بہرے خدا سے دور رہیں گے اور یہ بھی آیت ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ في الآخِرَةِ أغلى یعنی جو اس جہان میں اندھا ہو گا وہ اُس جہان میں بھی اندھا ہوگا ایسا ہی ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لا تُذرِكَهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكَ الْأَبْصَارَ ۔ اس جگہ بظاہر انکار دیدار ہے اور اس کے مخالف یہ آیت ہے ۔ إِلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ " اس سے دیدار ثابت ہوتا ہے۔ سو مسیح اور بیٹی کے کلمات میں اسی قسم کا تناقض ہے جو دراصل تناقض نہیں۔ ایک نے مجاز کو ذہن میں رکھا اور دوسرے نے حقیقت کو ۔ اس لئے کچھ تناقض نہ ہوا۔ البقرة : ١٩ بنی اسرائیل: ۷۳ الانعام: ۱۰۴ القيامة : ٢٤