تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 769

تریاق القلوب — Page 452

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۵۲ تریاق القلوب ایک عظیم الشان نشان جو سلسلہ نبوت سے مشابہ ہے یہ ہے کہ براہین احمدیہ میں ایک یہ پیشگوئی تھی ۔ یعصمک الله وان لم یعصمک الناس ۔ وان لم يعصمك الناس یعصمک اللہ ۔ اس پیشگوئی میں اُس زمانہ بلا اور فتنہ کی طرف اشارہ تھا جبکہ ہر ایک انسان مجھ سے منہ پھیر لے گا اور تباہ کرنے یا قتل کرنے کے منصوبے سوچیں گے۔ سو میرے دعوی مسیح موعود اور مہدی موعود کے بعد ایسا ہی ظہور میں آیا ۔ تمام لوگ یکدفعه بر سر آزار ہو گئے اور انہوں نے اول یہ زور لگایا کہ کسی طرح نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے مجھے ملزم کر سکیں ۔ پھر جبکہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ برخلاف اس کے نصوص صریحہ اور قویہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ فی الواقعہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ☆ یادر ہے کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ در حقیقت حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں کیونکہ اس مدعا پر قرآن شریف کی دو آیتیں شاہد ناطق ہیں۔ (۱) اول یہ آیت إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيْسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کا وہ فضل اور کرم یا دکر جو اُس نے عیسی علیہ السلام پر کیا اور عیسی علیہ السلام کو یہ بشارت دی کہ اے عیسی میں تجھے موت سے وفات دوں گا یعنی تو مصلوب نہیں ہوگا اور تجھے وفات کے بعد اپنی طرف اُٹھاؤں گا یعنی تیرے برگزیدہ اور صادق ہونے کے بارے میں آثار قویہ اور جلیبیہ ظاہر کروں گا اور اس قدر دنیا میں تیرا ذ کر خیر باقی رہ جائے گا کہ یہ ثابت ہو جائے گا کہ تو خدا کا مقرب ہے اور اس کے حضرت قدس میں بلایا گیا ہے اور جو الزام تیرے پر لگائے جاتے ہیں اُن سب سے تیرا پاک دامن ہونا ثابت کر دوں گا اور تیرے تابعین کو جو تیری صحیح صحیح تعلیم کی پیروی کریں گے حجت اور برہان کے رو سے قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور نیز تیرے مخالفوں اور گالیاں دینے والوں پر ذلت ڈالوں گا۔ وہ ہمیشہ ذلت سے عمر بسر کریں گے۔ در حقیقت خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے پردے میں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دے کر ایک بشارت دی ہے جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو تیرے مارنے کے درپے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ نور دنیا ا آل عمران: ۵۶