تریاق القلوب — Page 451
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۵۱ اے ۷۲ نہ خدا تعالیٰ کا خوف ہے اور نہ انسانوں سے شرم ہے۔ منجملہ ان پیشگوئیوں کے جو پوری ہو چکی ہیں اور خدا تعالی کی طرف سے میری سچائی پر ایک نشان ہے۔ یہ ہے کہ جب میری لڑکی مبارکہ پیٹ میں تھی اور قریبا پچھیں روز اس کی (۱۳۱) پیدایش میں باقی رہتے تھے تو اس لڑکی کی والدہ نہایت تکلیف میں مبتلا تھی۔ اور حساب کی غلطی سے یہ غم بھی ان کو لاحق ہوا کہ شاید یہ عمل نہ ہو کوئی اور بیماری ہو کیونکہ انہوں نے ٹھیک ٹھیک یاد نہ رہنے کی وجہ سے خیال کیا کہ یہ گیارھواں مہینہ جاتا ہے اور عام دستور کے لحاظ سے یہ مدت حمل کی نہیں ہو سکتی اس لئے دو ہری تکلیف دامنگیر ہوگئی۔ اور جب ایسے ایسے خیالات سے اُن کا غم حد سے بڑھ گیا تو میں نے اُن کے لئے دعا کی تب مجھے یہ الہام ہوا۔ آید آں روزے کہ متخلص شود ۔ یعنی وہ دن چلا آتا ہے کہ چھٹکارا ہو جائے گا۔ اور اس الہام کے معنوں کی مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ لڑکی پیدا ہوگی اور اسی وجہ سے کوئی لفظ بشارت کا اس الہام میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ چھٹکارا کا لفظ استعمال کیا گیا چنانچہ میں نے اس الہام سے اپنی جماعت میں سے بہتوں کو اطلاع دے دی ۔ آخر ۲۷ رمضان ۱۳۱۴ھ کو لڑکی پیدا ہو گئی جس کا نام مبارکہ رکھا گیا۔ کیونکہ انہی دنوں میں مجھے معلوم کرایا گیا تھا کہ ایک نشان ظاہر ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جس روز لڑکی کا عقیقہ تھا اُسی روز ہمیں اطلاع پہنچی کہ وہ لیکھرام جس کے مارے جانے کی نسبت پیشگوئی کی گئی تھی وہ ۶ / مارچ ۱۸۹۹ء کو اس غدار دنیا سے عالم مجازات کی طرف کھینچا گیا۔ تمام گواہ اس پیشگوئی کے زندہ ہیں جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔ اور منجملہ میرے نشانوں کے جو میری تائید میں خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے على سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۱۸۹۷ء ۱۸۹۷ء ‘ ہونا چاہیے۔(ناشر)