تریاق القلوب — Page 443
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۴۳ تریاق القلور اور پھر وہ گواہوں کی شہادت سے اپنی صفائی ثابت کرے اور استغاثہ کا ثبوت ڈیفنس کے ثبوت سے ٹوٹ جائے تو اس صورت میں ہر ایک شریر کو آزادی ہوگی کہ ایسی تمام عورتوں پر زنا کا الزام لگا دے جنہوں نے معتمد گواہوں کے ذریعہ سے عدالت میں ثابت نہیں کر دیا کہ وہ زانیہ نہیں ہیں خواہ وہ رسولوں اور نبیوں کی عورتیں ہوں اور خواہ صحابہ کی اور خواہ اولیاء اللہ کی اور خواہ اہل بیت کی عورتیں ہوں اور ظاہر ہے کہ آیت برم به برینا میں بری کے لفظ کے ایسے معنے کرنے صاف الحاد ہے جو ہرگز خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں ہے بلکہ بدیہی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں بری کے لفظ سے خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے کہ جومستور الحال لوگ ہیں خواہ مرد ہیں خواہ عورتیں ہیں جن کا کوئی گناہ ثابت نہیں وہ سب بری کے نام کے مستحق ہیں اور بغیر ثبوت اُن پر کوئی تہمت لگا نافستق ہے جس سے خدا تعالیٰ اس آیت میں منع فرماتا ہے اور اگر کسی کو نبیوں اور رسولوں کی کچھ پرواہ نہ ہو اور اپنی ضد سے باز نہ آوے تو پھر ذرا شرم کر کے اپنی عورتوں کی نسبت ہی کچھ انصاف کرے کہ کیا اگر اُن پر کوئی شخص اُن کی عفت کے مخالف کوئی ایسی ناپاک تہمت لگاوے جس کا کوئی ثبوت نہ ہو تو کیا وہ عورتیں آیت برم به برینا کی مصداق ٹھہر کر بری کبھی جاسکتی ہیں اور ایسا تہمت لگانے والا سزا کے لائق ٹھہرتا ہے۔ یاوہ محض اس حالت میں بری کبھی جائیں گی جبکہ وہ اپنی صفائی اور پاک دامنی کے بارے میں عدالت میں گواہ گذرا نہیں اور جب تک وہ بذریعہ شہادتوں کے اپنی عفت کا عدالت میں ثبوت نہ دیں تب تک جو شخص چاہے اُن کی عفت پر حملہ کیا کرے اور اُن کو غیر بری قرار دے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ میں بار ثبوت تہمت لگانے والے پر رکھا ہے۔ اور جب تک تہمت لگانے والا کسی گناہ کو ثابت نہ کرے تب تک تمام مردوں اور عورتوں کو بری کہلانے کے مستحق ٹھہرایا ہے۔ پس قرآن اور زبانِ عرب کے رو سے بری کے معنے ایسے وسیع ہیں کہ جب تک کسی پر کسی ۱۳۷۶ )