تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 769

تریاق القلوب — Page 442

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۴۲ تریاق القلوب مکابرہ کی راہ سے یہ کہے کہ اس جگہ بری کے لفظ سے وہ شخص مراد ہے جو مجرم ثابت ہونے کے بعد اپنی صفائی کے گواہوں کے ذریعہ سے اپنی بریت ظاہر کرے ۔ تو ایسا خیال بدیہی طور پر باطل ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا بری کے لفظ سے یہی منشاء ہے تو اس سے یہ خرابی پیدا ہوگی کہ اس آیت سے یہ فتوی ملے گا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے شخص پر جس کا گناہ ثابت نہیں۔ کسی گناہ کی تہمت لگانا کوئی جرم نہیں ہوگا۔ گو وہ مستور الحال شریفوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہی ہو اور صرف یہ کسر ہو کہ ابھی اُس نے بے قصور ہونا عدالت میں حاضر ہوکر ثابت نہیں کیا۔ حالانکہ ایسا سمجھنا صریح باطل ہے اور اس سے تمام تعلیم قرآن شریف کی زیروز بر ہو جاتی ہے کیونکہ اس صورت میں جائز ہوگا کہ جو لوگ مثلاً ایسی مستور الحال عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں جنہوں نے عدالت میں حاضر ہوکر اس بات کا ثبوت نہیں دیا کہ وہ ہر قسم کی بدکاری سے مدت العمر محفوظ رہی ہیں وہ کچھ گناہ نہیں کرتے اور اُن کو روا ہے کہ مستور الحال عورتوں پر ایسی تہمتیں لگایا کریں حالانکہ ایسا خیال کرنا اس مندرجہ ذیل آیت کے رو سے صریح حرام اور معصیت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمِنِيْنَ جَلْدَةٌ ے یعنی جو لوگ ایسی عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں جن کا زنا کار ہونا ثابت نہیں ہے بلکہ مستور الحال ہیں اگر وہ لوگ چار گواہ سے اپنے اس الزام کو ثابت نہ کریں تو ان کو اسی دُرّے مارنے چاہئیں۔ اب دیکھو کہ ان عورتوں کا نام خدا نے بری رکھا ہے جن کا زانیہ ہونا ثابت نہیں۔ پس بری کے لفظ کی یہ تشریح بعینہ ڈسچارج کے مفہوم سے مطابق ہے کیونکہ اگر بری کا لفظ جو قرآن نے آیت یرم به بریا میں استعمال کیا ہے صرف ایسی صورت پر بولا جاتا ہے کہ جبکہ کسی کو مجرم ٹھہرا کر اس پر فرد قرار داد جرم لگائی جائے النور : ۵