تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 441 of 769

تریاق القلوب — Page 441

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۴۱ تریاق القلوب یہاں تک کہ جیسا کہ وہ داغ سے پاک عدالت کے کمرہ میں آیا ویسا ہی داغ سے پاک عدالت کے کمرے سے نکل گیا۔ ایسی قسم کے ملزم کو عربی زبان میں بری کہتے ہیں اور جب ایک ملزم پر مجرم ہونے کا قومی شبہ گذر گیا اور مجرموں کی طرح اُس سے کارروائی کی گئی اور اس تمام ذلت کے بعد اُس نے اپنی صفائی کی شہادتوں کے ساتھ اس شبہ کو اپنے سر پر سے دور کر دیا تو ایسے ملزم کا نام عربی زبان میں مبرء ہے۔ پس اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ ڈسچارج کا عربی میں ٹھیک ٹھیک ترجمہ بری ہے اور ایکٹٹ کا ترجمہ مبرء ہے۔ عرب کے یہ دو مقولے ہیں کہ انا برئ من ذالک وانا مبرء من ذالک۔ پہلے قول کے یہ معنے ہیں کہ میرے پر کوئی تہمت ثابت نہیں کی گئی اور دوسرے قول کے یہ معنے ہیں کہ میری صفائی ثابت کی گئی ہے اور قرآن شریف میں یہ دونوں محاورے موجود ہیں ۔ چنانچہ بری کا لفظ قرآن شریف میں بعینہ ڈسچارج کے معنوں پر بولا گیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ وَمَنْ يَكْسِبُ خَطِيئَةً أَو إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مبينات الجزو نمبر ۵ سورة نساء یعنی جو شخص کوئی خطا یا کوئی گناہ کرے اور پھر کسی ایسے شخص پر وہ گناہ لگاوے جس پر وہ گناہ ثابت نہیں تو اس نے ایک کھلے کھلے بہتان اور گناہ کا بوجھ اپنی گردن پر لیا اور مبرء کی مثال قرآن شریف میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُولَيكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۔ یہ اس مقام کی آیت ہے کہ جہاں بے لوث اور بے گناہ ہونا ایک کا ایک وقت تک مشتبہ رہا پھر خدا نے اُس کی طرف سے ڈیفنس پیش کر کے اُس کی بریت کی ۔ اب آیت یـرم بـه بـرینا سے یہ بداہت ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے شخص کا نام بری رکھا ہے جس پر کوئی گناہ ثابت نہیں کیا گیا اور یہی وہ مفہوم ہے جس کو انگریزی میں ڈسچارج کہتے ہیں لیکن اگر کوئی ا النساء :١١٣ النور : ۲۷