تریاق القلوب — Page 430
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳۰ تریاق القلوب بھی عجب کا صلہ لام آیا ہے اور اسی حماسہ میں ایک اور شعر ہے جو اسی قسم کا ہے اور وہ یہ ہے:۔ عَجِبْتُ لِعِبْدَانِ هَجَوْنِي سَفَاهَةً أَنِ اصْطَبَحُوا مِنْ شَأْنِهِمْ وَتَقَبَّلُوا یعنی مجھے تعجب آیا کہ کنیزک زادوں نے سراسر حماقت سے میری ہجو کی اور اس ہجو کا سبب اُن کی صبح کی شراب اور دو پہر کی شراب تھی۔ اب دیکھو اس شعر میں بھی عجب کا صلہ لام آیا ہے اور اگر یہ کہو کہ یہ تو ان شاعروں کے شعر ہیں جو جاہلیت کے زمانہ میں گذرے ہیں ہیں وہ تو کافر ہیں ہم اُن کی کلام کو کب مانتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ بباعث اپنے کفر کے جاہل تھے نہ باعث اپنی زبان کے بلکہ زبان کی رو سے تو وہ امام مانے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن شریف کے محاورات کی تائید میں اُن کے شعر تفاسیر میں بطور حجت پیش کئے جاتے ہیں اور اس سے انکار کرنا ایسی جہالت ہے کہ کوئی اہل علم اس کو قبول نہیں کرے گا۔ ماسوا اس کے یہ محاورہ صرف گذشتہ زمانہ کے اشعار میں نہیں ہے بلکہ ہمارے سید و مولی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بھی اسی محاورہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً ذرہ مشکوۃ کو کھولو اور کتاب الایمان کے صفحہ ۳ میں اُس حدیث کو پڑھو جو اسلام کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جس کو متفق علیہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے: عـجـبـنـالـه يسئله ويصدقه یعنی ہم نے اس شخص کی حالت سے تعجب کیا کہ پوچھتا بھی ہے اور پھر مانتا بھی جاتا ہے۔ اب دیکھو کہ اس حدیث شریف میں بھی عجبنا کا صلہ لام ہی لکھا ہے اور عجبنا منہ نہیں لکھا بلکہ عجبنا لہ کہا ہے۔ اب کوئی مولوی صاحب انصافاً فرماویں کہ ایک شخص جو اپنے تئیں مولوی کہلاتا ہے بلکہ دوسرے مولویوں کا سرگر وہ اور ایڈوکیٹ اپنے تئیں قرار دیتا ہے