تریاق القلوب — Page 429
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۲۹ تریاق الفن شعر میں بھی اس بلیغ فصیح شاعر نے عجب کا صلہ لام ہی بیان کیا ہے جیسا کہ لفظ لمسراہا سے ظاہر ہے اور ایسا ہی وہ تمام اشعار اس دیوان کے جو صفحہ ۳۹۰ و ۴۱۱ و ۵۷۵ و ۵۱۱ میں درج ہیں ان سب میں عجب کا صلہ لام ہی لکھا ہے جیسا کہ یہ شعر ہے:۔ عجبت لسعى الدهر بيني وبينها فلما انقضى ما بيننا سكن الدهر یعنی مجھے اس بات سے تعجب آیا کہ زمانہ نے ہم میں جدائی ڈالنے کے لئے کیا کیا کوششیں کیں مگر جب وہ ہمارا وقت عشق بازی کا گذر گیا تو زمانہ بھی چپ ہو گیا۔ اب دیکھو کہ اس شعر میں بھی عجب کا صلہ لام ہی آیا ہے۔ اور ایسا ہی حماسہ کا یہ شعر ہے:۔ عجبت لبرءی منک یا عز بعد ما عمرت زمانًا منک غیر صحیح یعنی اے معشوقہ یہ عجیب بات ہے کہ تیرے سبب سے ہی میں اچھا ہوا ۔ یعنی تیرے وصال سے اور تیرے سبب سے ہی ایک مدت دراز تک میں بیمار رہا یعنی تیری جدائی کی وجہ سے علیل رہا۔ شاعر کا منشاء اس شعر سے یہ ہے کہ وہ اپنی معشوقہ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میری بیماری کا بھی تو ہی سبب تھی اور پھر میرے اچھا ہو جانے کا بھی تو ہی سبب ہوئی۔ اب دیکھو کہ اس شعر میں بھی عجب کا صلہ لام ہی آیا ہے۔ پھر ایک اور شعر حماسہ میں ہے اور وہ یہ ہے:۔ عجبا لاحمد والعجائب جمة الى يلوم على الزمان تبذلي یعنی مجھ کو احمد کی اس حرکت سے تعجب ہے اور عجائب پر عجائب جمع ہو رہے ہیں کیونکہ وہ مجھے اس بات پر ملامت کرتا ہے کہ میں نے زمانہ کی گردش سے بازی کو کیوں ہار دیا۔ وہ کب تک مجھے ایسی بیہودہ ملامت کرے گا ۔ کیا وہ نہیں سمجھتا کہ ہمیشہ زمانہ موافق نہیں رہتا اور تقدیر بد کے آگے تدبیر پیش نہ جاتی ۔ پس میرا اس میں کیا قصور ہے کہ زمانہ کی گردش سے میں ناکام رہا۔ اب دیکھو کہ اس شعر میں