تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 769

تریاق القلوب — Page 424

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۲۴ تریاق القلور کرنے کی غرض سے تمام لوگوں میں مشہور کیا کہ یہ شخص مہدی معہود اور مسیح موعود سے منکر ہے اس لئے بے دین اور کافر اور دجال ہے بلکہ اسی غرض سے ایک استفتا لکھا اور علما ء ہندوستان اور پنجاب کی اس پر مہریں ثبت کرائیں تا عوام مسلمان مجھے کو کافر سمجھ لیں اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ گورنمنٹ تک خلاف واقعہ یہ شکایتیں پہنچا ئیں کہ شخص گورنمنٹ انگریزی کا بدخواہ اور بغاوت کے خیالات رکھتا ہے اور عوام کے بیزار کرنے کے لئے یہ بھی جابجا مشہور کیا کہ یہ شخص جاہل اور علم عربی سے بے بہرہ ہے اور ان تینوں قسم کے جھوٹ کے استعمال سے اس کی غرض یہ تھی کہ تا عوام مسلمان مجھ پر بدظن ہو کر مجھے کا فر خیال کریں اور ساتھ ہی یہ بھی یقین کر لیں کہ یہ شخص در حقیقت علم عربی سے بے بہرہ ہے اور نیز گورنمنٹ بدظن ہو کر مجھے باغی قرار دے یا اپنا بدخواہ تصور کرے۔ جب محمد حسین کی بداندیشی اس حد تک پہنچی کہ اپنی زبان سے بھی میری ذلت کی اور لوگوں کو بھی خلاف واقعہ تکفیر سے جوش دلایا اور گورنمنٹ کو بھی جھوٹی مخبریوں سے دھو کہ پھر موسیٰ کی معرفت بے گناہ لوگوں کے مال بنی اسرائیل کے قبضہ میں دیوے اور نہایت قابل شرم طریق یعنی دروغ گوئی سے وہ مال لیا جائے اور پھر عہد شکنی سے ہضم کیا جائے ایسا ہی مسیح کو اجازت دی کہ وہ حرام کا عطر ملوانے سے نفرت نہ کرے اور نامحرم عورت جوان حسین کے اعضا سے اعضامانے کے وقت کچھ بھی تقوی اور پرہیزگاری کا پاس نہ کرے اور پھر ایک طرف تو خدا خونِ ناحق کو کبائر میں داخل کرے اور پھر خضر کو اجازت دے کہ تا معصوم بچے کو بے گناہ قتل کر دے۔ اس اشکال کا جواب یہی ہے کہ ایسے اعتراضات صرف بدظنی سے پیدا ہوتے ہیں اگر کوئی حق کا طالب اور متقی طبع ہے تو اُس کے لئے مناسب طریق یہ ہے کہ ان کاموں پر اپنی رائے ظاہر نہ کرے جو متشابہات میں سے اور بطور شاذ و نادر ہیں کیونکہ شاذ نادر میں کئی وجوہ پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ فاسقوں کا طریق ہے کہ نکتہ چینی کے وقت میں اُس پہلو کو چھوڑ دیتے ہیں جس کے صدہا نظائر موجود ہیں۔ اور بد نیتی کے جوش سے ایک ایسے