تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 769

تریاق القلوب — Page 425

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۲۵ تریاق القلوب دینا چاہا اور یہ ارادہ کیا کہ وجوہ متذکرہ بالا کوعوام اور گورنمنٹ کے دل میں جما کر میری ذلت کرا دے تب میں نے اُس کی نسبت اور اُس کے دو دوستوں کی نسبت جو محمد بخش جعفر زیانی اور ابوالحسن تبتی ہیں وہ بددعا کی جو اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں درج ہے اور جیسا کہ اشتہار مذکور میں میں نے لکھا ہے یہ الہام مجھ کو ہوا۔ ان الـذيـن يــــون عـن سـبيــل اللـه سينالهم غضب من ربهم۔ ضرب الله اشد من ضرب الناس۔ انّما امرنا اذا اردنا شيئًا ان نقول له كن فيكون۔ اتعجب لأمرى۔ انّي مع العشاق۔ انّي انا الرحمن ذو المجد والعلى ۔ ويعض الظالم على يديه۔ ويطرح بين يدى ۔ جزاء سيئة بمثلها وترهقهم ذلة ۔ مالهم من الله عاصم۔ فاصبر حتى يأتى الله بامره ان الله مع الذين اتقوا و الذين هم محسنون۔ ترجمہ اس الہام کا یہ ہے کہ پہلو کو لے لیتے ہیں جو نہایت قلیل الوجود اور متشابہات کے حکم میں ہوتا ہے اور نہیں جانتے کہ یہ متشابہات کا پہلو جو شاذ نادر کے طور پر پاک لوگوں کے وجود میں پایا جاتا ہے یہ شریر انسانوں کے امتحان کے لئے رکھا گیا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو اپنے پاک بندوں کا طریق اور عمل ہر ایک پہلو سے ایسا صاف اور روشن دکھلاتا کہ شریر انسان کو اعتراض کی گنجائش نہ ہوتی مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہ کیا تا وہ خبیث طبع انسانوں کا محبث ظاہر کرے۔ نبیوں اور رسولوں اور اولیاء کے کارناموں میں ہزار ہا نمونے ان کی تقویٰ اور طہارت اور امانت اور دیانت اور صدق اور پاس عہد کے ہوتے ہیں اور خود خدا تعالیٰ کی تائیدات آن کی پاک باطنی کی گواہ ہوتی ہیں لیکن شریر انسان ان نمونوں کو نہیں دیکھتا اور بدی کی تلاش میں رہتا ہے آخر وہ حصہ متشابہات کا جو قرآن شریف کی طرح اس کے نسخہ وجود میں بھی ہوتا ہے مگر نہایت کم شریر انسان اسی کو اپنے اعتراض کا نشانہ بناتا ہے اور اس طرح ہلاکت کی راہ اختیار کر کے جہنم میں جاتا ہے۔ منہ