تریاق القلوب — Page 418
۱۲۳ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۱۸ تریاق القلوب یہ ہیں ۔ (۱) اوّل یہ کہ اُمور غیبیہ بعد استجابت یا اور طریق پر اس کثرت سے اُس پر کھلتے رہیں اور بہت کی پیشگوئیاں ایسی صفائی سے ظہور پذیر ہو جائیں کہ اُس کثرت مقدار اور صفاء کیفیت کے لحاظ سے کوئی شخص اُن کا مقابلہ نہ کر سکے اور اُن کھی اور کیفی کمالات میں احتمال شرکت غیر بکلی معدوم بلکہ محالات میں سے ہو یعنی جس قدر اس پر اسرار غیب ظاہر ہوں اور جس قدر اُس کی دعائیں قبول ہو کر اُن قبولیتیوں سے اُس کو اطلاع دی جائے اور جس قدر اُس کی تائید میں آسمان اور زمین اور انفس اور آفاق میں خوارق ظہور پذیر ہوں بکلی غیر ممکن ہو جو اُن کی نظیر کوئی دکھلا سکے یا ان کمالات میں مقابلہ پر کھڑا ہو سکے اور اس قدر علم غیوب الہیہ اور کشف انوار نا متناہیہ اور تائیدات سماویہ بطور خارق عادت اور اعجاز اور کرامت اُس کو عطا کی جائے کہ گویا ایک دریا ہے جو چل رہا ہے اور ایک عظیم الشان روشنی ہے جو آسمان سے اتر کر زمین پر پھیل رہی ہے اور یہ امور اس حد تک پہنچ جائیں جو به بداہت نظر خارق عادت اور فائق العصر دکھائی دیں اور یہ کمال کمال نبوت سے موسوم ہے۔ (۲) اور دوسرا کمال جو بطور نشان کے امام الاولیاء اور سید الاصفیاء کے لئے ضروری ہے وہ فہم قرآن اور معارف کی اعلیٰ حقیقت تک وصول ہے۔ یہ بات ضروری طور پر یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قرآن شریف کی ایک ادنی تعلیم ہے اور ایک اوسط اور ایک اعلیٰ اور جو اعلیٰ تعلیم ہے وہ اس قدرا نوار معارف اور حقائق کی روشن شعاعوں اور حقیقی حسن اور خوبی سے پُر ہے جو ادنی یا اوسط استعداد کا اُس تک ہر گز گذرنہیں ہو سکتا بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کے اہل صلوت اور ارباب طہارت فطرت ان سچائیوں کو پاتے ہیں جن کی سرشت سراسر نور ہوکر نور کو اپنی طرف کھینچتی ہے سو اؤل مرتبہ صدق کا جو ان کو حاصل ہوتا ہے دنیا سے نفرت اور ہر ایک لغو امر سے طبعی کراہت ہے۔ اور اس عادت کے