تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 769

تریاق القلوب — Page 419

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۱۹ تریاق القلوب راسخ ہونے کے بعد ایک دوسرے درجہ پر صدق پیدا ہوتا ہے جس کو اُنس اور شوق اور رجوع الی اللہ سے تعبیر کر سکتے ہیں اور اس عادت کے راسخ ہونے کے بعد ایک تیسرے درجہ کا صدق پیدا ہوتا ہے جس کو تبدل اعظم اور انقطاع ائم اور محبت ذاتیہ اور فنافی اللہ کے درجہ سے تعبیر کر سکتے ہیں اور اس عادت کے راسخ ہونے کے بعد رُوحِ حق انسان میں حلول کرتی ہے اور تمام پاک سچائیاں اور اعلیٰ درجہ کے معارف و حالات بطریق طبیعت و جبلت بکمال وجد و شرح صدر اُس شخص کے نفس پاک پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور عمیق در عمیق معارف قرآنیہ و نکات شرعیہ اُس شخص کے دل میں جوش مارتے اور زبان پر جاری ہوتے ہیں اور وہ اسرار شریعت اور لطائف طریقت اُس پر کھلتے ہیں جو اہلِ رسم اور عادت کی عقلیں اُن تک پہنچ نہیں سکتیں کیونکہ یہ شخص مقام نفحات الہیہ پر کھڑا ہوتا ہے اور روح القدس اس کے اندر بولتی ہے اور تمام کذب اور دروغ کا حصہ اس کے اندر سے کاٹا جاتا ہے کیونکہ یہ روح سے پاتا اور روح سے بولتا اور روح سے لوگوں پر اثر ڈالتا ہے اور اس حالت میں اُس کا نام صدیق ہوتا ہے کیونکہ اُس کے اندر سے بکلی کذب کی تاریکی نکلتی اور اُس کی جگہ سچائی کی روشنی اور پاکیزگی اپنا دخل کرتی ہے اور اس مرتبہ پر اعلیٰ درجہ کی سچائیوں کا ظہور اور اعلیٰ معارف کا اُس کی زبان پر جاری ہونا اُس کے لئے بطور نشان کے ہوتا ہے۔ اُس کی پاک تعلیم جو سچائی کے نور سے خمیر شدہ ہوتی ہے دنیا کو حیرت میں ڈالتی ہے۔ اُس کے پاک معارف جو سر چشمہ فنافی اللہ اور حقیقت شناسی سے نکلتے ہیں تمام لوگوں کو تعجب میں ڈالتے ہیں اور اس قسم کا کمال صدیقیت کے کمال سے موسوم ہے ۔