تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 769

تریاق القلوب — Page 400

۱۱۵ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۰۰ تریاق القلوب مقدس ثابت کرنے کے لئے یہ ایک جھوٹا اور بے اصل بیان سامری نے پیش کر دیا کہ رسول کے قدموں کی خاک کی برکت سے یہ آواز آتی ہے تا وہ لوگ اس گوسالہ کو بہت ہی مقدس سمجھ لیں اور تا سامری ایک کراماتی انسان مانا جائے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رونق اور عزت کم ہو جائے ۔ قرآن شریف نے ہرگز اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ در حقیقت وہ آواز رسول کی خاک قدم کی وجہ سے تھی صرف سامری کا قول نقل کر دیا ہے اور جیسا کہ قرآن شریف کی عادت ہے جو بعض اوقات کفار کے اقوال نقل کرتا ہے اور بوجہ بداہت بطلان ان اقوال کے رڈ کرنے کی حاجت نہیں دیکھتا بلکہ فقط قائل کا کا ذب یا فاسق ہونا بیان کر کے دانشمندوں کو اصل حقیقت سمجھنے کے لئے متنبہ کرتا ہے۔ ایسا ہی اس جگہ بھی اُس نے کیا۔ سواب سامری کے اس جھوٹے منصوبہ کی مشابہت لیکھر ام سے یہ ہے کہ آریوں نے بھی محض دھوکہ دہی کی غرض سے لیکھرام کو ایک مقدس اور فاضل انسان قرار دے دیا اور اُس کی چند گندی کتابیں جو محض عیسائیوں کی کاسہ لیسی سے اُس نے لکھی تھیں اور بقول شخصے نقل را چہ عقل ۔ پادریوں کی اُردو کتابوں کی نقل تھی ان ہی باتوں کو سرمایہ فضیلت سمجھ لیا اور جس طرح سامری نے یہ بہانہ بنایا تھا کہ رسول کے قدم کی برکت سے اُس گوسالہ نے بیل کی سی آواز کی ہے۔ اسی طرح اُس کی گندی تحریر میں ایشر کی کر پا کی وجہ سے سمجھی گئیں اور خیال کیا گیا کہ یہ شکتی ایشر نے اُس کو دی کہ مسلمانوں کا اُس نے مقابلہ کیا حالانکہ وہ شخص اپنی ذات سے ایک نادان اور بے علم آدمی اور موٹی سمجھ کا ایک ہندو تھا اور جو کچھ اُس نے لکھا نہایت بیہودہ اور سراسر باطل تھا جو اُس کے فطرتی حمق اور موٹی عقل کی وجہ سے اُس سے ظہور میں آیا۔ اور جس طرح سامری کا کھلونا جس میں دونوں طرف سوراخ تھے ہوا کے اندر باہر آنے جانے سے