تریاق القلوب — Page 386
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۸۶ تریاق القلوب لوط کی قوم کے عذاب یا دوسری اُن قوموں کے عذاب سے مشابہ ہونا چاہیے جو دنیا میں ہوئے جس عذاب سے وہ لوگ مر گئے نہ کہ جہنم کے عذاب سے جو اس دنیا کے بعد ہوگا کس قدر تعصب ہے اور کیسے ہاتھ پیر مار رہے ہیں کہ کسی طرح خدا کے نشانوں کو خاک میں ملاویں سو چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ان لوگوں کے نفس امارہ طرح طرح کی بیجا حجتیں پیش کریں گے تا خدا تعالیٰ کے ایک چمکتے ہوئے نشان کو کسی طرح ٹال دیں ایسا نہ ہو کہ وہ اُن کے دل میں اترے اور اُن کے سینہ کو خدا کی معرفت سے روشن کرے۔ اس لئے خدائے علیم و حکیم نے کئی دفعہ کئی الہاموں میں اس پیشگوئی کو بیان فرمایا اور کھلے کھلے طور پر اس کی تفہیم کرا کر وہ عبارتیں میری کتاب میں درج کرائیں جو ابھی لکھ چکا ہوں۔ اب میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس جگہ اُن دوسرے الہامات اور کشوف کا بھی ذکر کروں جو اسی پیشگوئی کی تفصیل اور تشریح میں بیان فرمائے گئے ۔ مگر اس قدر بیان کر دینا فائدہ سے خالی نہیں کہ ان لوگوں کا ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ جب ایک مرتبہ خدا تعالیٰ نے بیان فرما دیا تھا کہ لیکھرام پر نصب اور عذاب چھ برس تک نازل ہونے والا ہے تو دوسری پیشگوئیوں کی کیا ضرورت تھی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دوسری پیشگوئیاں اس پیشگوئی کے لئے بطور تفصیل اور شرح کے ہیں تا نادان معترض پر بکمال و تمام حجت پوری کی جائے۔ اور اگر یہ جائز نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بعض الہامات کو دوسرے الہامات سے تشریح فرما دے تو یہ اعتراض خود خدا تعالیٰ کی کتاب پر ہوگا کہ مثلاً جبکہ اُس نے سورہ اخلاص میں ایک مرتبہ فرما دیا تھا کہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ تو پھر کیا ضرور تھا کہ بار بار ان مضامین کا قرآن شریف میں ذکر کرتا اور ناحق اپنے کلام کو طول دیتا۔ اب دیکھنا چاہیے کہ یہ نادان فرقہ میری پیشگوئی پر اعتراض کر کے کس طرح الاخلاص : ۲ تا ۵