تریاق القلوب — Page 381
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۸۱ تریاق القلوب ہے کہ خود اور خوار کے لفظ کو انسان پر اُس حالت میں بھی بولتے ہیں کہ جب وہ قتل ہونے کے وقت فریاد کرتا ہے۔ اور قتل کرنے کے وقت جو ہتھیار کی آواز ہوتی ہے اُس کا نام بھی خوار ہے۔ اور جیسا کہ ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی یعنی عجل جسدله خوار ۔ له نصب وعذاب ۔ اپنے ان دو لفظوں کے رُو سے جو خوار اور نصب ہے لیکھرام کے قتل ہونے پر دلالت کرتی ہے اسی کے موافق خدا تعالیٰ کی تفہیم سے ہم نے وہ اشعار اور نیز چند سطریں نثر کی لکھی ہیں جو کتاب آئینہ کمالات اسلام کے پانچویں ضمیمہ میں درج ہیں جن پر نظر غور کر کے ایک دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ ان بیانات سے صاف واضح ہوتا ہے کہ لیکھرام اپنی طبعی موت سے نہیں بلکہ بذریعہ قتل پیشگوئی کے مفہوم کے مطابق اس جہان فانی سے کوچ کرے گا۔ چنانچہ اس ضمیمہ کے صفحہ ۲ کی عبارت جو اس صورت موت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے:۔ اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں ( بیماریوں ) سے نرالا اور خارق عادت ( یعنی طبعی موتوں سے جو عادت میں داخل ہیں الگ ہو) اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو (یعنی انسان سمجھ سکتا ہو کہ یہ ایک ناگہانی آفت ہے جو دلوں پر ایک ڈرانے والا اثر کرتی ہے ) تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اُس کی رُوح سے میرا یہ نطق ہے۔ اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا ( یعنی اگر ہیبت ناک طور پر لیکھرام کی موت نہ ہوئی )