تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 769

تریاق القلوب — Page 377

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۷۷ تریاق القلوب کر کے اپنے خداوند کسری کے پاس حاضر کریں تو آپ نے اُن کی اس بات کی کچھ پرواہ نہ کر کے فرمایا کہ میں اس کا گل جواب دوں گا۔ دوسری صبح جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے خداوند نے تمہارے خداوند کو ( جس کو وہ بار بار خداوند خداوند کر کے پکارتے تھے ) اُسی کے بیٹے شیرویہ کو اُس پر مسلط کر کے قتل کر دیا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب یہ لوگ یمن کے اُس شہر میں پہنچے جہاں سلطنت فارس کا گورنر رہتا تھا تو ابھی تک اُس گورنر کو کسری کے قتل کئے جانے کی کچھ بھی خبر نہیں پہنچی تھی اس لئے اُس نے بہت تعجب کیا مگر یہ کہا کہ اس عدول حکمی کے تدارک کے لئے ہمیں جلد تر کچھ نہیں کرنا چاہیئے جب تک چند روز تک پایه سلطنت کی ڈاک کی انتظار نہ کر لیں ۔ سو جب چند روز کے بعد ڈاک پہنچی تو اُن کا غذات میں سے ایک پروانہ یمن کے گورنر کے نام نکلا جس کو شیر و یہ کسری کے ولی عہد نے لکھا تھا۔ مضمون یہ تھا کہ " خسرو میرا باپ ظالم تھا اور اُس کے ظلم کی وجہ سے اُمور سلطنت میں فساد پڑتا جاتا تھا اس لئے میں نے اُس کو قتل کر دیا ہے۔ اب تم مجھے اپنا شہنشاہ سمجھو اور میری اطاعت میں رہو۔ اور ایک نبی جو عرب میں پیدا ہوا ہے جس کی گرفتاری کے لئے میرے باپ نے تمہیں لکھا تھا اُس حکم کو بالفعل ملتوی رکھو ۔ اور جیسا کہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ قیصر اور آتھم کا قصہ بالکل باہم مشابہ ہے ایسا ہی ہم اس جگہ بھی اس بات کے لکھنے کے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اسی طرح لیکھرام کا قصہ کسری یعنی خسرو پرویز کے قصے سے نہایت شدید مشابہت رکھتا ہے کیونکہ جس طرح کسی ہندو نے جو اپنے تئیں نومسلم قرار دیتا تھا لیکھرام کے پیٹ پر حر بہ چلایا ای طرح شیرویہ نے خسرو کے پیٹ پر حر بہ چلایا۔ اور اُن دونوں واقعات لیکھرام اور کسری سے اُس وقت خبر دی گئی تھی جبکہ کسی کو یہ خیال بھی نہ تھا کہ ایسا واقعہ