تریاق القلوب — Page 368
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۶۸ تریاق القلوب جو شخص ان دونوں قصوں کو باہم ملا کر نہیں دیکھے گا ممکن ہے کہ وہ اچھی طرح اس دقیقہ معرفت کو نہ سمجھ سکے اور وہ دو رنگ جو جمالی جلالی صورت میں ظہور پذیر ہوئے ہیں اُن کا لطف کسی کو کب آ سکتا ہے جب تک کہ ان دونوں قصوں پر بالمقابل اُس کی نظر نہ پڑے۔ اسی لئے ہم نے مناسب سمجھا ہے کہ اس پیشگوئی کے بعد لیکھرام والی پیشگوئی کو درج کریں تا معلوم ہو کہ جس قدر یہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی نرم طور پر رفق اور آہستگی کے ساتھ ظہور میں آئی ایسا ہی وہ پیشگوئی جو لیکھرام کے متعلق تھی ایک دہشت ناک نظارہ کے ساتھ ظہور پذیر ہوئی ۔ یہاں تک کہ آتھم کا جنازہ بھی فیروز پور میں چپکے سے اُٹھایا گیا اور چند آدمی عالم خاموشی میں اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر آگئے اور کوئی معرکہ کا اجتماع نہ ہوا لیکن لیکھرام کی موت پر شور قیامت بر پا ہوا اور لاہور کے کو چوں اور گلیوں میں ہندوؤں کی گریہ وزاری کی وہ رستخیز قائم ہوئی کہ لاہوریوں کی آنکھ نے شاید راجہ شیر سنگھ کے مرنے کے بعد اس کی نظیر نہ دیکھی ہوگی ۔ اور جنازہ ایسے ہجوم خلائق کے ساتھ نکلا کہ گویا وہ دن اہل ہنود کے لئے روز محشر تھا۔ اور ہم اُن لوگوں کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں جنہوں نے محض ظلم کی راہ سے یہ کہہ دیا کہ آتھم کے متعلق پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ پیارے ناظرین اتم ہمارے اس تمام بیان کو جو آتھم کی نسبت کیا گیا ہے اوّل غور سے پڑھو اور پھر آپ ہی انصافا گواہی دو کہ کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اس پیشگوئی کے الہام میں رجوع کی شرط تھی۔ اور پھر کیا یہ سچ نہیں کہ آتھم نے اپنے اقوال سے اپنے افعال سے اپنی حرکات سے اپنی سکنات سے اپنے مبہوت اور خوف زدہ چہرہ اور سخت غم کی حالت سے اور اپنے بے اصل اور بے ثبوت افتراؤں سے اور اپنی قسم سے کنارہ کشی کرنے سے اور اپنی