تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 769

تریاق القلوب — Page 362

۹۹ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۶۲ تریاق القلوب میں نے خود بات کو پھر ہلا کر آتھم کو قسم کھانے کے لئے بلایا کہ اگر وہ پیشگوئی سے نہیں ڈرا بلکہ تین حملوں سے ڈرا تو قسم کھاوے مگر اُس نے قسم بھی نہیں کھائی حالانکہ تمام عیسائیوں کے بزرگ ہمیشہ قسم کھاتے رہے۔ یہ سب جھوٹے بہانے ہیں کہ قسم کھانا منع ہے۔ پھر میں نے چار ہزار روپیہ دینا کیا کہ قسم کھا کر چار ہزار روپیہ لے لیں لیکن تب بھی قسم نہ کھائی۔ اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں الہامی پیشگوئی میں صریح شرط موجود تھی جس سے کسی دشمن اور دوست کو انکار نہیں اور پھر آتھم صاحب نے ایسے عملی اور قولی نمونے دکھائے جو صریح ثابت کرتے تھے کہ وہ پوشیدہ طور پر ضرور الہامی شرط کے پابند ہو گئے تھے تو پھر بعد اس کے یہ کہنا کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی کیا یہ ایمانداری ہے یا بے ایمانی ۔ تعصب کا یہ حال ہے کہ یونس کی پیشگوئی پر اعتراض نہیں کرتے جو پوری نہ ہوئی حالانکہ وہ بغیر شرط کے تھی مگر اس پیشگوئی میں تو صریح شرط تھی اور یہ شرط کے پہلو سے پوری ہوگئی۔ اور پھر اخفائے شہادت کے بعد دوسرے پہلو سے بھی پوری ہو گئی تو کیا اس کی سچائی کو نہ ماننا ایمانداری اور انصاف ہے۔ آتھم نے میرے پر تین حملوں کی تہمتیں لگائیں۔ ان تہمتوں میں بار ثبوت اُس کی گردن پر تھا جس سے وہ سبکدوش نہیں ہوا یہاں تک کہ اس دنیا سے گذر گیا۔ اس جگہ ایک ضروری امر کا بیان کرنا حق کے طالبوں کے لئے مفید ہوگا کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری کرنے کے لئے جو کچھ ہم سے ظہور میں آیا اور پیشگوئی کے پورا ہونے کے بعد جو کچھ عیسائیوں نے امرتسر اور الہ آباد وغیرہ مقامات میں خلاف واقعہ مشہور کیا اور جو کچھ میری نسبت زبان درازیاں کی گئیں اور خدا تعالیٰ کے الہام کی تکذیب کی گئی یہ سب واقعات آج سے تیرہ سو برس پہلے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کے طور پر بیان