تریاق القلوب — Page 359
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۵۹ تریاق القلوب میعاد میں موت سے امن میں رہا کیونکہ ضرور تھا کہ خدا اپنے وعدہ کا لحاظ رکھتا اور بعد اس کے وہ اس لئے جلد تر فیروز پور میں ہی مر گیا کہ خدا تعالی کے الہام میں یہ بھی تھا کہ وہ پیشگوئی کی شرط سے اگر شرط کا پابند ہوا فائدہ تو اُٹھائے گا لیکن اگر وہ اپنے اس رجوع کو جس کے سبب سے وہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر نہیں مرے گا پوشیدہ رکھے گا اور یہ گواہی علانیہ طور پر نہیں دے گا کہ اُس نے پیشگوئی سے ڈر کر کسی قدر اپنی اصلاح کر لی ہے جس کا اُس نے اپنی تحریر کے ذریعہ سے پہلے ہی اقرار کیا تھا تو وہ بعد اس کے جلد تر پکڑا جائے گا اور فوت ہو جائے گا چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا اور وہ ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر مر گیا اگر وہ اس غربت اور خاموشی اور خوف پر قائم رہتا جو اُس نے پیشگوئی کی میعاد میں اختیار کی تھی تو اُس کو لمبی زندگی دی جاتی اور وہ بین آبرس تک اور زندہ رہ سکتا تھا لیکن چونکہ اس کا منہ خدا کی طرف سے پھر گیا اور وہ اس خوف پر قائم نہ رہ سکا جو پیشگوئی کے زمانہ میں اُس کے دل میں تھا اور پیشگوئی کے دنوں کے گذرنے کے بعد اُس نے ایسا خیال کر لیا کہ گویا یہ تمام خوف اس کا محض بے جا اور ایک بزدلی تھی اِس لئے جلد تر موت کا پیالہ اُس کو پلایا گیا اور پیشگوئی کے زمانہ کے بعد نہ صرف اس لئے وہ پکڑا گیا کہ اُس نے اپنے پہلے خیال کو اپنے دل میں صحیح نہ سمجھا بلکہ اس لئے بھی کہ وہ اپنے خوف کو چھپانے کے لئے چند افتراؤں کا بھی مرتکب ہوا۔ اور عیسائی قوم کو خوش کرنے کے لئے اُس نے یہ مشہور کیا کہ میں جو اس قدر پیشگوئی (۹۸) کے ایام میں کا نپتا اور ڈرتا رہا یہ لرزہ اور خوف اور گریہ وزاری میرا اس وجہ سے تھا کہ میرے پر تین حملے کئے گئے تھے ۔ سانپ چھوڑا گیا تھا اور لدھیانہ میں بعض سوار قتل کے لئے آئے تھے اور ایسا ہی فیروز پور میں بھی قتل کے لئے حملہ ہوا تھا لیکن ہر ایک دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ تین حملوں کا عذر اس کی بریت کو ثابت نہیں کرتا