تریاق القلوب — Page 358
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۵۸ تریاق القلوب ایک ایسی تبدیلی اُس میں واقع ہوئی کہ اُس نے یک لخت قدیم عادات اپنی چھوڑ دیں ۔ یادر ہے کہ اُس کا یہ قدیم طریق تھا کہ ہمیشہ وہ بعض مسلمانوں سے مباحثہ کیا کرتا اور اسلام کے رد میں کتابیں لکھا کرتا تھا اور اسلام اور نبی اسلام کی توہین کرتا تھا۔ مگر اس پیشگوئی کے بعد اُس کا ایسا منہ بند ہو گیا کہ پیشگوئی کی میعاد میں ایک حرف بھی بے ادبی کا اُس کے منہ سے نکل نہ سکا اور نہ اسلام کے مقابل پر کچھ لکھ سکا اور نہ کسی سے زبانی گفتگو کی بلکہ اُس کے مُنہ پر مہر لگ گئی اور خاموش اور غمگین رہنے لگا اور ہر ایک منصف مزاج عیسائی جس نے اُس کو اُس زمانہ میں دیکھا ہوگا جبکہ وہ پیشگوئی کی میعاد میں زندگی بسر کر رہا تھا اگر چاہے تو گواہی دے سکتا ہے کہ پیشگوئی کی سچائی کا خوف آتھم کو اندر ہی اندر کھا گیا تھا یہاں تک کہ جب اُس کو یقین ہو گیا کہ میں نہیں بچوں گا تب اُس نے مناسب سمجھا کہ اپنی عزیز بیٹیوں سے جو اُس کو بہت ہی پیاری تھیں آخری ملاقات کر لے۔ تب اس خیال سے امرتسر کی سکونت اُس نے چھوڑ دی اور کچھ حصہ زندگی کا اپنی ایک لڑکی کے پاس لدھیانہ میں بسر کیا اور کچھ حصہ فیروز پور میں اپنی دوسری لڑکی کے پاس رہتا رہا اور ان دونوں جگہ میں اُس کی دولڑ کیاں تھیں جو اپنے خاوندوں کے گھروں میں آباد تھیں۔ آخر وہ اسی مسافرانہ حالت میں اُن ایام کے قریب ہی فیروز پور میں فوت ہو گیا ۔ اور چونکہ وہ عیسائیت کی استقامت پر قائم نہ رہ سکا اور اُس نے پیشگوئی کی عظمت سے دہشت زدہ ہو کر اپنا وہ پرانا عملی طریقہ چھوڑ دیا جو اسلام کی مخالفت اور منکرانہ حملوں کا طریقہ تھا جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ تحریری اور تقریری طور پر نیش زنی کیا کرتا تھا اور غربت اور مسکینی اور خاموشی اختیار کی اس لئے خدا تعالیٰ نے جو نہایت حلیم ہے اور کسی کے ایک ذرہ عمل کو بھی ضائع کرنا نہیں چاہتا اُس کے اس قدر رجوع کا اُس کو یہ فائدہ دیا کہ وہ اُس کے وعدہ کے موافق پیشگوئی کی