تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 769

تریاق القلوب — Page 357

۳۵۷ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ تکذیب اور ہنسی نہیں ہوگی اور نہ صرف گالیاں دی جائیں گی بلکہ تیرے مارے جانے کے لئے بھی کوشش کی جائے گی جیسا کہ نبیوں کے لئے کی گئی اور بعض اُن میں سے عدالت کی (۹۷) طرف کھینچے گئے۔ اور پھر آخری الہام میں یہ اشارہ تھا کہ تو زندہ رہے گا اور اُن کے مکر تجھے بلاک نہیں کر سکیں گے جب تک تو ہمارے بعض وعدوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ لے۔ ہاں وہ کئی قسم کے مکر اور منصوبے کریں گے اور جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام اور ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر تکذیب اور قتل اور بدنامی کے لئے انواع اقسام کے منصوبے بنائے گئے اُنہی کے مشابہ یہ منصوبے بھی ہوں گے یہ تمام اُس پیشگوئی کی ٹھیک ٹھیک تشریح ہے جو آج سے ہیں برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں موجود ہے۔ پس اگر آج تک کوئی فتنہ اور کوئی مکر اور منصوبہ انجیل کے واعظوں کی طرف سے ظہور میں نہ آتا تو یہ پیشگوئی عوام کی نظر میں قابل اعتراض ٹھہر جاتی مگر چونکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی اور ضرور تھا کہ اپنے وقت پر اس کا ظہور ہو۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے پورا کرنے کے لئے یہ تقریب پیش کی کہ مئی اور جون ۱۸۹۳ء میں مجھ میں اور ڈپٹی عبد اللہ آتھم میں مباحثہ ہوا ۔ اور مباحثہ سے پہلے کئی دفعہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم مجھ سے آسمانی نشان مانگ چکا تھا لہذا جس وقت مباحثہ ختم ہوا تو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اُس نشان سے محروم نہ رہے لہذا اس کی نسبت یہ پیشگوئی کی گئی کہ وہ روز ختم مباحثہ سے ۱۵ مہینے تک ہادیہ میں ڈالا جائے گا بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور پھر بعد اس کے ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے دل پر اس قدر پیشگوئی کا خوف غالب آگیا کہ وہ اُس خوف سے سراسیمہ ہو گیا اور اُس کا قرار اور آرام جاتا رہا اور پیشگوئی کی دہشت سے ا یہ مباحثہ ۲۱ مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہوا اور ۵ر جون ۱۸۹۳ء کوختم ہو گیا۔ منہ