تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 769

تریاق القلوب — Page 352

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۵۲ تریاق القلوب کرتا ہوں تم آمین کرو۔ تب میں نے یہ دُعا کی کہ ربّ اذهب على الرجس وطهرني تطھیرا ۔ اس کے بعد وہ تینوں فرشتے آسمان کی طرف اُٹھ گئے اور مولوی عبد اللہ ۶۴ صاحب بھی آسمان کی طرف اُٹھ گئے اور میری آنکھ کھل گئی اور آنکھ کھلتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک طاقت بالا مجھ کو ارضی زندگی سے بلند تر کھینچ کر لے گئی اور وہ ایک ہی رات تھی جس میں خدا نے بتمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں وہ تبدیلی واقع ہوئی کہ جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادہ سے نہیں ہو سکتی اور جیسا کہ میں نے مولوی عبداللہ صاحب کے خاک پر بیٹھنے اور آسمان پر جانے کی تعبیر کی تھی اُسی طرح وقوع میں آگیا کیونکہ وہ بعد اس کے جلد تر فوت ہو گئے اور اُن کا جسم خاک میں اور اُن کی روح آسمان پر گئی۔ اور اُنہی دنوں میں شاید اُس رات سے اول یا اُس رات کے بعد میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اُس کا نام شیر علی ہے اُس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں اور میل اور کدورت ان میں سے پھینک دی اور ہر ایک بیماری اور کو تہ بینی کا مادہ نکال دیا ہے اور ایک مصفانور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا مگر بعض مواد کے نیچے دبا ہوا تھا اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح بنا دیا ہے اور یہ عمل کر کے پھر وہ شخص غائب ہو گیا اور میں اُس کشفی حالت سے بیداری کی طرف منتقل ہو گیا۔ میں نے اس خواب کی بہت سے لوگوں کو اطلاع دی تھی چنانچہ اُن میں سے صاحبزادہ سراج الحق سرساوی اور میر ناصر نواب صاحب دہلوی ہیں ۔ منجملہ نشانوں کے ایک یہ ہے کہ جب مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی میرے اس خواب کے مطابق فوت ہو گئے جو میں نے اُن کی وفات کے بارے میں