تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 769

تریاق القلوب — Page 349

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۴۹ تریاق القلوب میرے پر چڑھائی کی تھی۔ لیکن خدا تعالیٰ نے مجسٹریٹ ضلع کو ایسی روشن ضمیری بخشی کہ وہ مقدمہ کی اصل حقیقت تک پہنچ گیا۔ پھر بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ خود عبد الحمید نے عدالت میں اقرار کر دیا کہ عیسائیوں نے مجھے سکھلا کر یہ اظہار دلایا تھا ورنہ یہ بیان سراسر جھوٹ ہے کہ مجھے قتل کے لئے ترغیب دی گئی تھی۔ اور صاحب مجسٹریٹ ضلع نے اسی (۹۴) آخری بیان کو صحیح سمجھا اور بڑے زور شور کا ایک چٹھہ لکھ کر مجھے بری کر دیا۔ اور خدا تعالی کی یہ عجیب شان ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری بریت کو مکمل کرنے کے لئے اُسی عبدالحمید سے پھر دوبارہ میرے حق میں گواہی دلائی تا وہ الہام پورا ہو جو براہین احمدیہ میں آج سے بیس برس پہلے لکھا گیا ہے اور وہ یہ ہے فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها يعنى خدا نے اس شخص کو اُس الزام سے جو اس پر لگایا جائے گا بری کر دیا ہے یعنی بری کر دیا جائے گا۔ اور وہ اظہار جو عبدالحمید نے حال میں ۱۲ ستمبر ۱۸۹۹ء کو عدالت صاحب مجسٹریٹ ضلع یعنی روبروئے مسٹر جے ۔ آر۔ ڈریمنڈ صاحب کے دیا ہے وہ یہ ہے۔ بیان ملزم میں نے بیانات جن کا چارج میں ذکر ہے ضرور لکھوائے تھے ۔ حضور رحم فرماویں۔ میرا پہلا بیان جھوٹا ہے۔ ( یعنی وہ بیان جس میں لکھایا تھا کہ میں مرزا غلام احمد کی طرف سے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا) اُنہوں نے یعنی عیسائیوں نے مجھے تصویر دکھلائی اور کہا کہ جیل خانہ میں جاؤ گے میرے کوئی گواہ نہیں ہیں صرف بھگت پر یمد اس اور ایک کرسچین وہاں موجود تھے جبکہ مجھ کو سکھلایا گیا۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے مقام پٹھانکوٹ ۔ تصدیق عدالت ۔ یہ بیان ملزم ہمارے مواجہہ اور سماعت میں تحریر ہوا اور ملزم کو