تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 769

تریاق القلوب — Page 347

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۴۷ تریاق القلوب اب سوچ کر دیکھو کہ جو حکم مجسٹریٹ ضلع امرتسر نے جاری کیا تھا وہ کیسا آتش بار وارنٹ تھا اور یہ یمن کیسے نرم الفاظ میں ہے۔ لیکن ایسا اتفاق پیش آیا کہ میرے مخالفوں کو اس بات کی مطلق خبر نہ ہوئی کہ وارنٹ کا حکم تبدیل ہو کر سمن جاری ہوا ہے بلکہ وہ لوگ تو اول اس دھو کہ میں رہے کہ مقدمہ امرتسر کی عدالت میں ہی ہے اور بڑے شوق سے دو وقت ریل پر جا کر دیکھتے تھے کہ کس وقت یہ شخص گرفتار ہو کر امر تسر آتا ہے اور پھر اُن کو یہ پتہ تو مل گیا کہ مثل مقدمہ ضلع گورداسپورہ میں منتقل ہوگئی ہے مگر یہ پتہ نہ ملا کہ اب ضلع گورداسپورہ سے وارنٹ نہیں بھیجا گیا بلکہ سمن روانہ کیا گیا ہے لہذا اس تماشا کے دیکھنے کے لئے آئے کہ یہ شخص وارنٹ سے گرفتار ہو کر آئے گا اور اُس کی ذلت ہماری بہت سی خوشی کی باعث ہوگی اور ہم اپنے نفس کو کہیں گے کہ اے نفس اب خوش ہو کہ تو نے اپنے دشمن کو ذلیل ہوتے دیکھ لیا مگر یہ مراد اُن کی پوری نہ ہوئی بلکہ برعکس اس کے خود اُن کو ذلت کی تکالیف اُٹھانی پڑیں۔ اگست کی ۱۰ار تاریخ کو اس نظارہ کے لئے مولوی محمد حسین صاحب موحدین کے ایڈوکیٹ اس تماشا کے دیکھنے کے لئے کچہری میں آئے تھے تار اس بندہ درگاہ کو ہتھکڑی پڑی ہوئی اور کنسٹیبلوں کے ہاتھ میں گرفتار دیکھیں اور دشمن کی ذلت کو دیکھ کر خوشیاں مناویں لیکن یہ بات اُن کو نصیب نہ ہوسکی بلکہ ایک رنج وہ نظارہ دیکھنا پڑا اور وہ یہ کہ جب میں صاحب مجسٹریٹ ضلع کی کچہری میں حاضر ہوا تو وہ نرمی اور اعزاز سے پیش آئے اور اپنے قریب اُنہوں نے میرے لئے کرسی بچھوادی اور نرم الفاظ سے مجھ کو یہ کہا کہ گو ڈاکٹر کلارک آپ پر اقدام قتل کا الزام لگاتا ہے مگر میں نہیں لگاتا ۔ خدا تعالی کی قدرت ہے کہ یہ ڈ پٹی کمشنر ایک زیرک اور دانشمند اور منصف مزاج مجسٹریٹ تھا اُس کے دل میں خدا نے