تریاق القلوب — Page 337
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۳۷ تریاق القلوب اپنے اپنے بدنوں میں واپس آکر زندہ ہو گئیں اور اُس مرید کی روح بھی بدن میں واپس آکر وہ مرید بھی زندہ ہو گیا۔ تب فرشتہ روتا ہوا خدا تعالیٰ کے پاس گیا اور قصہ بیان کیا اور اپنی پنڈلی ٹوٹی ہوئی دکھلائی تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تو نے اچھا نہیں کیا کہ عبد القادر میرے پیارے کو رنجیدہ کیا اور یہ کام تو اُس کا ایک ادنیٰ کام ہے اگر وہ چاہتا تو تمام اُن روحوں کو جو ابتداء دنیا سے مرتی چلی آئی تھیں ایک دم میں زندہ کر دیتا۔ اور ایک روایت یہ ہے کہ جب فرشتہ نے جناب الہی میں رو رو کر یہ فریاد کی تو خدا تعالیٰ نے جواب دیا کہ چپ رہ ۔ عبد القادر اپنے کاموں میں قادر مطلق ہے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ ایسا ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک کرامت ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج ہوا تو آپ نور کے صدہا پر دے عبور کر کے خدا تعالیٰ تک پہنچے صرف ایک پردہ باقی رہا تو آپ نے عرض کی کہ یا الہی میں تو اس قدر مشقت اُٹھا کر محض دیدار کے لئے آیا تھا مگر اس جگہ ایک پردہ درمیان میں حائل ہے میرے پر رحم فرما اور یہ پردہ درمیان سے اُٹھا دے تا مجھے دیدار نصیب ہو تب اللہ تعالیٰ نے رحم فرما کر پردہ درمیان سے اُٹھا دیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جس کو خدا سمجھے بیٹھے تھے وہ حضرت علی ہی ہیں ۔ پھر یہ سنا کر کہا جاتا ہے کہ مرتضیٰ علی کی یہ شان سے شیخین کو ان سے نسبت ہی کیا اور ایسی ہی اور کرامات بھی بہت ہیں جو اس زمانہ کے جہلاء، پیش کیا کرتے ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کا جواب یہ ہے کہ یہ کرامات نہیں ہیں اور نہ اثبات اشیاء کے قاعدہ کے رو سے ان کا کچھ ثبوت ہے بلکہ جاہل مریدوں اور معتقدوں نے افترا کے طور پر یہ تمام باتیں بنائی ہیں جن میں سے بعض تو صریح کفر ہیں اور اگر بغیر کسی ثبوت کے ہر ایک رطب یا بس کو یونہی مان لینا ہے تو پھر ہندوؤں نے کیا گناہ کیا ہے کہ اُن کے دیوتاؤں کے عجائبات نہیں مانے