تریاق القلوب — Page 336
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۳۶ تریاق القلوب کے لئے آسمانی نشان طلب کرے۔ سو اس کتاب کے دیکھنے سے ہر ایک طالب حق کو معلوم ہوگا کہ اس بندہ حضرت عزت سے اُسی کے فضل اور تائید سے اس قدر نشان ظاہر ہوئے ہیں کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں افراد امت میں سے کسی اور میں ان کی نظیر تلاش کرنا ایک طلب محال ہے۔ مثلاً انہی نشانوں کو جو اس کتاب تریاق القلوب میں بطور نمونہ بیان کئے گئے ہیں ذہن میں رکھ کر پھر ہر ایک چشتی قادری نقشبندی سہروردی وغیرہ میں ان کی تلاش کرو اور تمام وہ لوگ جو اس اُمت میں قطب اور غوث اور ابدال کے نام سے مشہور ہوئے ہیں ان کی تمام زندگی میں ان کی نظیر ڈھونڈو پھر اگر نظیر مل سکے تو جو چاہو کہو ورنہ خدائے غیور اور قدیر سے ڈر کر بیبا کی اور گستاخی سے باز آجاؤ۔ عجب نہیں کہ بعض جاہل اس جگہ یہ کہیں کہ وہ کرامتیں جو ہمارے مشائخ اور پیروں کی مشہور ہیں اس شخص نے کہاں دکھلائی ہیں جیسا کہ حضرت سید عبد القادر رضی اللہ عنہ نے بارہ برس کی کشتی غرق شدہ دریا میں سے نکالی یعنی تمام لوگوں کو جو دریا میں مرچکے تھے نئے سرے زندہ کیا۔ اور ایک مرتبہ فرشتہ ملک الموت حضرت موصوف کے کسی مُرید کی جان نکال کر لے گیا تھا تو آپ نے اُس مرید کی ماں کی گریہ وزاری پر رحم کر کے فی الفور آسمان کی طرف پرواز کیا اور ابھی فرشتہ پہلے آسمان تک نہیں پہنچا تھا کہ آپ نے اُس کو پکڑ لیا اور اُس سے اپنے مرید کی روح واپس دینے کے لئے درخواست کی ۔ تب فرشتہ نے کچھ لیت و لعل کیا تو آپ جلال اور غضب میں آگئے اور ایک لاٹھی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ملک الموت کی پنڈلی پر ماری اور ہڈی کو توڑ دیا اور اُس کی زنبیل جس میں انسانوں کی جانیں بھری تھیں جو اُس دن کی کارروائی تھی چھین لی اور تمام روحوں کو چھوڑ دیا تب ساری روحیں اُس دن