تریاق القلوب — Page 332
MA روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۳۲ تریاق القلوب ہوا تو جیسا کہ خواب میں دیکھا تھا سب کچھ ویسا ہی ظہور میں آیا اور حاکم کو کچھ ایسا سہو ہو گیا کہ وہ مجھے قسم دینا بھول گیا اور جب میرا اظہار ہو چکا تو اُس وقت اُس کو قسم دینا یاد آیا اور فرض قانون پورا کرنے کے لئے پھر مجھ سے قسم لی ۔ اس نشان کے کچھ ایک دو گواہ نہیں بلکہ ایک گروہ کثیر میری جماعت کے لوگوں کا گواہ ہے جن میں سے خواجہ کمال الدین صاحب بی اے پلیڈر اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے پلیڈر اور اخویم مولوی حکیم نوردین صاحب اور اخویم مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ہیں۔ اب دیکھتے جاؤ اور غور کرتے جاؤ کہ کیا یہ انسان کے کام ہیں اور کیا کسی بچے اہل فراست کے دل میں گذر سکتا ہے کہ جو لوگ صدہا کوس سے ہدایت پانے کے لئے میرے پاس آتے ہیں اور سچائی کی تلاش میں صد ہا روپیہ میری رضامندی کے لئے خرچ کرتے ہیں اور میرے لئے اپنے عزیزوں اور خویشوں اور دوستوں کو چھوڑ بیٹھے ہیں ۔ وہ اس گندی اور پلید کا رروائی کو مجھ سے دیکھ کر کہ میں جھوٹے گواہ ان کو قرار دوں اور جھوٹ بولنے کے لئے اُن کو مجبور کروں۔ پھر بھی یہ تمام گند دیکھ کر صدق دل سے میرے ساتھ رہ سکیں اور اپنے مالوں کو میری راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہوں اور اپنی جانوں کو میرے لئے مصیبت میں ڈالیں اور اپنی عزت کو خاک میں ملاویں آخر آپ لوگ بھی تو انسان ہیں کیا آپ لوگوں کا کانشنس یہ فتویٰ دیتا ہے کہ آپ لوگ اپنے کسی گر و یا پیر کی ایسی تعلیم کے بعد جو سراسر بدکاری اور افترا اور دروغ بافی پر مبنی ہو پھر اُس کو مقدس اور راستباز قرار دیں اور وہ آپ سے جھوٹی گواہیاں دلانا چاہے تو اُس کو خواہ نخواہ ولی اور کراماتی بنانے کے لئے جھوٹ بھی بول دیں اور پھر اُس کی ایسی خبیث کا رروائیوں کے ساتھ اُس کو اچھا آدمی سمجھتے رہیں ۔