تریاق القلوب — Page 323
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۲۳ تریاق القلوب موزوں ہیں تو پھر ان تکلفات میں پڑنے کی کیا ضرورت تھی ۔ آخر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض سادہ لوح قانون اور واضعان قانون کی منشاء سے بہت دُور جا پڑے۔ ورنہ حکام کے صدہا فیصلوں کو کھول کر دیکھو کہ وہ اپنی حج مینٹ میں کسی کو ڈسچارج کرنے سے پہلے یہی لکھتے ہیں کہ چونکہ ارتکاب جرم کا ثبوت نہیں یا یہ کہ الزام ثابت نہیں یا یہ کہ شہادت کافی نہیں یا یہ کہ وجوہات استغاثہ اطمینان کے لائق نہیں اس لئے ملزم ڈسچارج کیا جاتا ہے یعنی رہا کیا جاتا ہے۔ اب دیکھو کہ اس رہائی کی بنا عدم ثبوت قرار دیتے ہیں اس لئے ڈسچارج کے لفظ کا ترجمہ ایسے لفظ کے ساتھ ہونا چاہیے جس سے یہ شرطی رہائی سمجھی جاتی ہے اور وہ بری کا لفظ ہے ۔ لہذا یہ بات ایک امر محقق اور فیصلہ شدہ اور قطعی اور یقینی ہے کہ ڈسچارج کا ترجمہ بری ہے اور ایکیٹ کا ترجمہ مبرء اور یہی منشاء قانون بنانے والوں کا تھا جس کو ترجمہ کرنے والے تصریح سے بیان نہیں کر سکے۔ یہ فرق یا در کھنے کے لائق ہے کہ بری وہ ہے جس پر جرم ثابت نہیں اور اُس کے مجرم ٹھہرانے کے لئے کوئی وجہ پیدا نہیں ہوتی اور مبرء وہ ہے جو اُس کے مجرم ٹھہرانے کے لئے وجوہ پیدا تو ہوئیں مگر صفائی کے وجوہ نے اُن کو توڑ دیا اور اُن پر غالب آگئیں ۔ تو اب کیا انصاف ہے کہ ایسے شخص کے لئے جس کا ابتدا سے ہی دامن پاک نظر آتا ہے اور اُس کے ملزم کرنے کے لئے کوئی وجہ پیدا ہی نہیں ہوئی صرف رہا شدہ نام تجویز کیا جائے اور اُس کی پاکدامنی کے نور کی طرف جو با وجود مخالفانہ کوششوں کے بجھ نہ سکا کچھ بھی التفات نہ ہو اور کچھ بھی اس کا اظہار نہ کیا جائے بلکہ بلا شبہ انصاف کی روح یہ چاہتی ہے کہ ہر ایک کو اُس کا حق دیا جائے ۔ سو جس شخص کی ایسی نیک چلنی ہے جو اس پر حملہ کرنے کی ہی راہ بند ہے اُس کو عام معنوں کے