تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 769

تریاق القلوب — Page 303

روحانی خزائن جلد ۱۵ ٣٠٣ تریاق القلوب مخالف خیال کرنے میں کوئی تامل نہیں رہا۔ (۱) آپ نے دعویٰ رسول ہونے کا کیا ہے اور ختم المرسلین ہونے کا بھی ساتھ ساتھ ادعا کر دیا ہے جو ایک سچے مسلمان کے دل پر سخت چوٹ لگانے والا فقرہ تھا کہ جو عزت ختم رسالت کی بارگاہ الہی سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ فداک رُوحی یا رسول الله ) کول چکی ہے اُس کا دوسرا کب حق دار ہو سکتا ہے۔ (۲) آپ نے فرمایا ہے کہ ترک تباہ ہوں گے اور اُن کا سلطان بڑی بے عزتی سے قتل کیا جائے گا اور دنیا کے مسلمان مجھ سے التجا کریں گے کہ میں ان کو ایک سلطان مقرر کر دوں۔ یہ ایک خوفناک بر بادی بخش پیشگوئی اسلامی دنیا کے واسطے تھی کیونکہ آج تمام مقدس مقامات جو خداوند کے عہد قدیم وجدید سے چلے آتے ہیں ان کی خدمت ترکوں و اُن کے سلطان کے ہاتھ میں ہے ان مقامات کا ترکوں کی مغلوبی کی حالت میں نکل جانا ےے ہے ایک لازمی اور یقینی امر ہے جس کے خیال کرنے سے ایک ہیبت ناک و خطر ناک نظارہ دکھائی دیتا ہے کہ اس موقعہ پر دنیا کے ہر ایک مسلمان پر فرض ہو جائے گا کہ ان معبدوں کو نا پاک ہاتھوں سے بچانے کے واسطے اپنی جان و مال کی قربانی چڑھائے ۔ کیسا مصیبت اور امتحان کا وقت مسلمانوں پر آپڑے گا کہ یا تو وہ بال بچہ گھر بار پیارے وطن کو الوداع کہہ کے ان پاک معبدوں کی طرف چل پڑیں یا اُس ابدی اور جاوید زندگی ایمان سے دست بردار لے ہو جائیں۔۔۔۔ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا یہی راز ہے جو مسلمان ترکوں سے محبت کرتے ہیں کہ ان کی خیر میں اُن کے دین و دنیا کی خیر ہے ۔ ورنہ ترکوں کا کوئی خاص احسان مسلمانان ہند پر نہیں بلکہ ہم کو سخت گلہ ہے کہ ہماری پچھلی صدی کی عالمگیر تباہی میں ( جبکہ مرہٹوں اور سکھوں کے ہاتھ سے مسلمانان ہند بر باد ہو رہے تھے ) ہماری کوئی خبر اُنہوں نے نہیں لی۔ اس البقرة : ۲۸۷