تریاق القلوب — Page 295
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۹۵ تریاق القلوب ۵۶ دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔ تب میں خوش ہوا اور اس جنگل سے قادیاں کی طرف واپس آیا اور سیدھا بازار کی طرف رُخ کیا تا قادیاں کے سب پوسٹما سٹر سے دریافت کروں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں ۔ چنانچہ ڈاکخانہ سے بذریعہ ایک خط کے اطلاع ہوئی کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالبا گمان گذرتا ہے کہ اُسی دن یا دوسرے دن وہ روپیہ مجھے مل گیا۔ اس نشان کا گواہ شیخ حامد علی ہے جو دریافت کے وقت حلفاً بیان کر سکتا ہے مگر حلف حسب نمونہ نمبر ۲ کے ہوگی۔ ایک دفعہ کشفی طور پر که با للہ روپیہ مجھے دکھلائے گئے ۔ پھر اُردو میں الہام ہوا کہ ماجھے خان کا بیٹا اور شمس الدین پٹواری ضلع لاہور بھیجنے والے ہیں۔ اور جب یہ الہام اور کشف ہوا تو میں نے حامد علی اور ایک اور شخص کو ڈا نام کو جو امرتسر کے علاقہ کا رہنے والا تھا اطلاع دی اور چند اور آدمیوں کو بھی اس سے مطلع کیا جن کا اس وقت مجھے نام یاد نہیں رہا۔ تب جب ڈاک کا وقت ہوا تو ایک کارڈ آیا جس میں یہ روپیہ لکھا ہوا تھا اور یہ تفصیل درج تھی کہ لفظ روپے ماجھے خان کے بیٹے کی طرف سے ہیں اور باقی چار یا چھ روپے شمس الدین پٹواری کی طرف سے بطور امداد ہیں۔ اور ساتھ ہی اس کے رو پی بھی آگیا۔ تب ان لوگوں کی نہایت قوت ایمانی کا باعث ہوا جنہوں نے اول یہ الہام سنا تھا۔ اور پھر اُسی دن اُسی تعداد اور اُسی تشریح سے روپیہ آتا دیکھا۔ اور یہ تمام گواہ حلفاً بیان کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ بالکل سچ ہے۔ ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمعیل کا پٹیالہ سے خط آیا کہ جد میر محمد اسماعیل کی عمر اس وقت قریبا دس برس کی تھی۔ منہ