تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 769

تریاق القلوب — Page 296

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۹۶ تریاق القلوب میری والدہ فوت ہوگئی ہے اور اسحاق میرے چھوٹے بھائی کو جو ابھی بچہ ہے کوئی سنبھالنے والا نہیں اور پھر خط کے اخیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اسحاق بھی فوت ہو گیا۔ اور میری بیوی کو بلایا کہ دیکھتے ہی چلی آویں۔ اس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ جس وقت یہ خط آیا اس وقت میری بیوی ایک سخت آپ سے بیمار تھی ایسی حالت میں نہ میں خط کا مضمون ان کو سنا سکتا تھا کیونکہ اس سخت مصیبت کے خط کو سن کر اس بیماری کی حالت میں ان کی جان کا اندیشہ تھا۔ اور نہ پوشیدہ رکھ سکتا تھا کیونکہ ایک سخت مصیبت اور ماتم کو پوشیدہ رکھنا بھی فطرتا انسان سے نہیں ہو سکتا۔ اس تشویش میں ایک ذرہ غنودگی ہو کر مجھ کو الہام ہوا۔ اِن كَيْدَ كُنَّ عَظِیم ۔ یعنی اے عور تو تمہارے قریب بہت بڑے ہیں۔ جب یہ الہام مجھے ہوا تو ساتھ ہی یہ تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے تب میں نے بلا توقف اس الہام کو اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کے پاس جو قادیاں میں موجود تھے بیان کیا اور ان کو کہ دیا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام بات خلاف واقعہ ہے ۔ اور پھر الہام سے پوری تسلی پا کر والدہ محمود کو ان کی سخت بیماری کی حالت میں اطلاع کرنا فضول اور نامناسب سمجھا لیکن پوشیدہ طور پر تفتیش کے لئے شیخ حامد علی کو پٹیالہ میں بھیج دیا۔ وہاں سے بہت جلد اُس نے واپس آکر بیان کیا کہ اسحاق اور اس کی والدہ دونوں زندہ موجود ہیں اور اس خط لکھنے کا صرف یہ باعث ہوا کہ چند روز اسحاق اور اسمعیل کی والدہ سخت بیمار رہیں اور ان کی خواہش تھی کہ اس حالت بیماری میں جلد تر ان کی لڑکی ان کے پاس آجائے اس لئے کچھ تو بیماری کی گھبراہٹ سے اور کچھ ملنے کے اشتیاق سے یہ خلاف واقعہ خط میں لکھا کر بھیج دیا۔ اب مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی اور شیخ حامد علی تھصہ غلام نبی دونوں زندہ موجود ہیں اور