تریاق القلوب — Page 280
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۸۰ تریاق القلوب گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تہیں چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اُٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اُس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں ۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالی کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اُسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اُسے جہنم میں ڈالے گا لیکن باوجود اس امکان کے جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا کیونکہ ایسا کرنا اس کی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے اور وہ جانتا ہے کہ لوگوں کے لئے یہ ایک فوق الطاقت ٹھوکر کی جگہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو پشت در پشت رزیل چلا آتا ہے اور لوگوں کی نظر میں نہ صرف وہ بیچ ہے بلکہ اُس کا باپ اور دادا اور پڑدادا اور جہاں تک معلوم ہے قوم کے بیچ ہیں اور ہمیشہ سے شریر اور بد کا ر ہوتے چلے آئے ہیں اور مویشیوں کی طرح ادنی خدمتیں کرتے رہے ہیں اب اگر لوگوں سے اس کی اطاعت کرائی جائے تو بلاشبہ لوگ اس کی اطاعت سے کراہت کریں گے کیونکہ ایسی جگہ میں کراہت کرنا انسان کے لئے ایک طبعی امر ہے اس لئے خدا تعالیٰ کا قدیم قانون اور سنت یہی ہے کہ وہ صرف اُن لوگوں کو منصب دعوت یعنی نبوت وغیرہ پر مامور کرتا ہے جو اعلیٰ خاندان میں سے ہوں اور ذاتی طور پر بھی چال چلن اچھے رکھتے