تریاق القلوب — Page 253
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۵۳ تریاق القلوب میں اپنی زبان بند رکھی جس زمانہ میں انصاف و قا نو نا اُس کا حق تھا کہ بلا توقف شور مچاتا اور اُس زمانہ میں بجز رونے اور ڈرنے اور گوشہ تنہائی میں بیٹھنے کے اور کوئی شکایت وہ زبان پر نہ لایا اور پھر جب پندار کا مہینے کی میعاد گذرگئی اور ہزار ہا لوگوں میں یہ واقعہ شہرت پا گیا کہ آنقم پیشگوئی کے زمانہ میں جو پندرہ مہینے تھی دن رات روتا رہا اور ڈرتا رہا اور کانپتا رہا اور مجنونوں کی طرح کسی جگہ اُس کو قرار نہ تھا تو پھر اُس وقت آتھم نے لوگوں کے پاس بیان کرنا شروع کیا کہ پیشگوئی کی میعاد میں یعنی پندرہ مہینے کے عرصہ میں میرے قتل کرنے کے لئے تین حملے ہوئے تھے۔ ان حملوں کی دہشت اور خوف سے میں روتا اور ڈرتا رہا۔ اب ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ یہ بیان جو بعد از وقت تھا اس کی کوئی اور (۵۶) وجہ معقول بجز اس کے ثابت نہیں ہوتی کہ وہ خجالت جو حد سے زیادہ ڈرنے اور رونے کی وجہ سے آتھم کے شامل حال ہو گئی تھی اس کے مثانے کے لئے آتھم نے یہ ایک حیلہ سوچا تھا اور اس پر ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ خود آتھم کے رفیقوں عیسائیوں نے اس کو کہا کہ اگر واقعی طور پر تین حملے ہوئے ہیں تو ہمیں اجازت دے ہم اب بھی حملہ کرانے والے پر نالش کرتے ہیں لیکن آتھم نے نالش سے انکار کیا۔ پھر خود میں نے بھی بار بار اس بات پر زور لگایا کہ اگر میری تعلیم اور فرمائش سے تین حملے ہوئے ہیں تو تمہیں قسم ہے کہ میرے پر نالش کرو ورنہ یقینا تم جھوٹے ہو اور محض داغ خجالت کے دور کرنے لئے باتیں بناتے ہو مگر پھر بھی آتھم نے نالش نہ کی۔ آخر پھر میں نے یہ بھی کہا کہ اگر تم پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرے اور تین حملوں سے ڈرے ہو تو قسم کھا جاؤ اور اس قسم کھانے پر چار ہزار روپیہ نقد تمہیں دوں گا مگر اُس نے قسم بھی نہ کھائی ۔ تب میں نے اس مضمون کے اشتہارات سولہ ہزار کے قریب شائع کئے مگر آتھم ذرہ متوجہ نہ ہوا۔ اب ہر ایک عقلمند خود سوچ لے کہ