تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 769

تریاق القلوب — Page 244

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۴۴ تریاق القلوب ضرورت نہیں۔ اور پھر یوسف نام ایک تاجر نے ایک بڑے کو ٹھے میں اُن کو رکھ دیا اور وہ کوٹھا ایک باغ میں تھا اور یہودی مُردوں کے لئے ایسے وسیع کو ٹھے کھڑکی دار بھی بنایا کرتے تھے۔ غرض حضرت مسیح اس طرح بچ گئے اور پھر چالیس دن تک مرہم عیسی سے اُن کے زخموں کا علاج ہوتا رہا جیسا کہ کتاب ” مسیح ہند میں میں ہم ثابت کر چکے ہیں ۔ اور پھر جب خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے حضرت مسیح علیہ السلام کو مر ہم عیسی کے استعمال سے شفا ہوگئی اور تمام صلیبی زخم اچھے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس ملک سے انہوں نے پوشیدہ طور پر ہجرت کی جیسا کہ سنت انبیاء ہے۔ اور اس ہجرت میں ایک یہ بھی حکمت تھی کہ تا خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کی سنت ادا ہو جائے کیونکہ اب تک وہ اپنے وطن کی چار دیواری میں ہی پھرتے تھے اور ہجرت کی تلخی نہیں اُٹھائی تھی ۔ اور اس سے پہلے انہوں نے اپنی ہجرت کی طرف اشارہ بھی کیا تھا جیسا کہ انجیل میں اُن کا یہ قول ہے کہ "نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں الغرض پھر آپ پیلاطوس کے ملک سے گلیل کی طرف پوشیدہ طور پر آئے اور اپنے حواریوں کو گلیل کی سڑک پر ملے۔ اور ایک گاؤں میں اُن کے ساتھ اکٹھے رات رہے اور اکٹھے کھانا کھایا اور پھر جیسا کہ میں نے اپنی کتاب " مسیح ہند میں میں ثابت کیا ہے کئی ملکوں کی سیر کرتے ہوئے نصبیین میں آئے۔ اور نصیبین سے افغانستان میں پہنچے اور ایک مدت تک اس جگہ جو کوہ نعمان کہلاتا ہے اس کے قریب سکونت پذیر ہے اور اس کے بعد پنجاب میں آئے اور پنجاب کے مختلف حصوں کو دیکھا اور ہندوستان کا بھی سفر کیا اور غالباً بنارس اور نیپال میں بھی پہنچے پھر پنجاب کی طرف لوٹ کے کشمیر کا قصد کیا اور بقیہ عمر سری نگر میں گذاری اور وہیں فوت ہوئے اور سری نگر محلہ خان یار کے قریب دفن کئے گئے اور اب تک وہ قبر یوز آسف نبی کی قبر اور شہزادہ نبی کی قبر اور عیسی نبی کی قبر کہلاتی ہے