تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 769

تریاق القلوب — Page 235

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۳۵ تریاق القلوب کر لیں کہ وہ آئیندہ کوکسی وقت معدوم ہو جائیں گی تو ساتھ ہی فرض کرنا پڑے گا کہ پر میشر بھی آئیندہ کو خالی ہاتھ بیٹھے گا۔ ہیں سوچنے کا مقام ہے کہ کیا خدائے حتی و قیوم کی یہی صفات ہونی چاہئیں اور کیا اُس کی خدائی کی حقیقت اور اصلیت اسی قدر ہے کہ اُس کی بادشاہت اُن چیزوں پر چلتی ہو جو اُس کی اپنی ملکیت نہیں۔ غرض میں نے ان کتابوں میں ثابت کیا ہے کہ ہندو مذہب کا گیان اور معرفت پر میشر کی نسبت جو کچھ ہے یہی ہے کہ وہ اُس کو قدیم سے معطل اور صفت خالقیت سے محروم قرار دیتے ہیں اور انسانی پاکیزگی کی نسبت وید کی تعلیم جس کو پنڈت دیا نند نے آریوں کو سکھلایا ہے بطور نمونہ یہ ہے کہ ایک آریہ اولاد کے لئے اپنی پیاری بیوی کو اپنی زندگی اور جوانی کی حالت میں دوسرے سے ہم بستر کر سکتا ہے تا کسی طرح اولاد پیدا ہو جائے۔ اس عمل کو ہندوؤں کے مذہب میں نیوگ کہتے ہیں ۔ پس جس مذہب کا خدا تعالیٰ کی نسبت یہ خیال ہے کہ وہ قدیم سے عاجز اور کمزور اور پیدا کرنے کی صفت سے بے نصیب ہے اور جس مذہب نے مخلوق کی پاکیزگی کا اس قدرخون کر دیا ہے کہ خاوند جو فطرتا انسانی غیرت کا جوش اپنی بیوی کے معاملہ میں ۴۹ اس قدر اپنے اندر رکھتا ہے کہ روا نہیں رکھتا کہ کسی غیر کی آواز کی طرف بھی وہ کان لگا وے اس کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ اولاد کی ضرورت کے لئے نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ اپنی جو رو کو غیر انسان سے ہم بستر کرادے ایسے مذہب سے کسی بہتری کی امید ہو سکتی ہے۔ علاوہ اس کے میں نے اپنی کتابوں میں یہ بھی بیان کر دیا ہے کہ ہندو مذہب کے پابند خوارق اور کرامات سے بے نصیب ہیں بلکہ اس کے منکر ہیں اور میں نے اس طرح پر بھی ان لوگوں پر اتمام حجت کیا ہے کہ کئی آسمانی نشان ان کو دکھلائے ہیں اور ان پر ثابت کیا ہے کہ آسمان کے نیچے صرف ایک اسلام ہے جس کی پیروی سے انسان کو خدا تعالیٰ کا قرب میسر آتا ہے اور اس قرب کی برکت سے انواع اقسام کی